اسٹار لنک اب محض ایک تجرباتی منصوبہ نہیں بلکہ اسپیس ایکس کے لیے نوٹ چھاپنے والی مشین بن چکا ہے، لیکن یہ سارا منافع اب مریخ کے مشنز کے بجائے آرٹیفیشل انٹیلی جنس (AI) کے بڑے اور پرخطر داؤ پر لگایا جا رہا ہے۔
ایلون مسک کی کمپنی میں آنے والی یہ تبدیلی ایک نئے دور کا آغاز ہے۔ وہ کمپنی جو اپنی پہچان دوبارہ استعمال ہونے والے راکٹوں سے کرواتی تھی، اب اس کا مستقبل ‘کمپیوٹنگ پاور’ سے جڑ گیا ہے۔ حالیہ رپورٹس اور اندرونی اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ اسٹار لنک کے 60 لاکھ سے زائد عالمی صارفین سے حاصل ہونے والے اربوں ڈالرز اب بڑے پیمانے پر اے آئی انفراسٹرکچر اور اس کے لیے مخصوص چپس کی خریداری پر خرچ ہو رہے ہیں۔
یہ کوئی سستا سودا نہیں ہے۔ جدید ترین اے آئی ماڈلز کی تربیت کے لیے اینویڈیا (Nvidia) کی ایچ-100 (H100) جی پی یو چپس درکار ہوتی ہیں جن میں سے ایک کی قیمت 30 ہزار ڈالرز سے زائد ہے۔ مسک جب سپر کمپیوٹر بنانے کا ارادہ کرتے ہیں تو وہ درجنوں نہیں بلکہ ہزاروں کی تعداد میں ایسی چپس خریدتے ہیں۔
کمپنی کی حکمت عملی پر نظر رکھنے والے ایک تجزیہ کار کا کہنا ہے کہ "اسپیس ایکس اب صرف راکٹ لانچ کرنے والی کمپنی نہیں رہی، بلکہ یہ ڈیٹا اور کمپیوٹنگ کی وہ بڑی طاقت بن گئی ہے جس کے پاس خلا میں اپنا ڈیلیوری سسٹم موجود ہے۔”
سرمایے کا یہ بے تحاشہ استعمال ٹیکساس میں کمپنی کی نئی تعمیرات اور بڑے پیمانے پر ہونے والی بھرتیوں سے صاف ظاہر ہے۔ اسپیس ایکس اب اپنی بنیادی کارروائیوں میں اے آئی کو شامل کر چکی ہے، جس میں 6 ہزار سے زائد سیٹلائٹس کو خلا میں ٹکراؤ سے بچانے کا خودکار نظام اور ‘اسٹار شپ’ پروگرام کی پیچیدہ انجینئرنگ شامل ہے۔
اس کے پیچھے ’مسک ایکو سسٹم‘ کا بھی بڑا ہاتھ ہے۔ اسپیس ایکس اب مسک کے دیگر منصوبوں، بالخصوص xAI کے لیے ایک مضبوط ستون بن چکی ہے۔ اسٹار لنک سے حاصل ہونے والی رقم کو سرور فارمز پر لگا کر مسک اپنے ان مہنگے ترین منصوبوں کو پبلک مارکیٹ کی کڑی نگرانی اور تنقید سے بچا لیتے ہیں۔
تاہم ناقدین کا خیال ہے کہ اے آئی پر یہ اخراجات مریخ تک پہنچنے کے طویل مدتی ہدف میں تاخیر کا سبب بن سکتے ہیں۔ ہر وہ ارب ڈالر جو سرور فارمز پر خرچ ہو رہا ہے، وہ مریخ پر زندگی گزارنے کے لیے ضروری ٹیکنالوجی سے دور لے جا رہا ہے۔
ایلون مسک کا موقف اس کے برعکس ہے۔ وہ اپنے ملازمین کو کئی بار کہہ چکے ہیں کہ جدید اے آئی کے بغیر بین الستاروی تہذیب (Multi-planetary civilization) کا انتظام سنبھالنا ناممکن ہے۔ اب آسمان میں گردش کرتے سیٹلائٹس درحقیقت ان ’دماغوں‘ کی قیمت ادا کر رہے ہیں جنہوں نے مستقبل میں ان راکٹوں کو کنٹرول کرنا ہے۔
اسپیس ایکس کی حالیہ مالیت 210 ارب ڈالرز تک جا پہنچی ہے، جس کی بڑی وجہ راکٹوں کی لانچنگ سے زیادہ نچلی مدار میں اسٹار لنک کی اجارہ داری ہے۔ جب تک سیٹلائٹ ڈشز کے آرڈرز آتے رہیں گے، اے آئی پر یہ سرمایہ کاری اسی رفتار سے جاری رہے گی۔
کمپنی اب صرف ستاروں تک جانے کا راستہ نہیں بنا رہی، بلکہ اس راستے کی رہنمائی کے لیے ایک عظیم ترین سپر کمپیوٹر تخلیق کر رہی ہے۔
