پاکستان ایک بار پھر اسی مشکل موڑ پر آ کھڑا ہوا ہے جس سے وہ کچھ عرصہ پہلے نکلتا دکھائی دے رہا تھا: اسپاٹ ایل این جی مارکیٹ۔ آبنائے ہرمز میں رکاوٹ، قطر سے سپلائی میں تعطل اور علاقائی جنگی صورتِ حال نے اسلام آباد کو مہنگے درآمدی گیس کارگو خریدنے پر مجبور کر دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ 18.4 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو کے قریب مبینہ خریداری یا بولی کی خبر غیر معمولی اہمیت اختیار کر گئی ہے، کیونکہ یہ صرف ایک قیمت نہیں بلکہ پاکستان کی کمزور ہوتی توانائی پوزیشن کی علامت ہے۔
اب تک دستیاب قابلِ اعتماد مواد سے ایک بات واضح ہے: ہرمز بحران نے پاکستان کی گیس سپلائی کو بری طرح متاثر کیا۔ ایس اینڈ پی گلوبل کے مطابق قطر سے آنے والی ایل این جی میں رکاوٹ نے پاکستان کی گیس بیلنس کو “اوور سپلائی” کی کیفیت سے نکال کر سیدھا “سپلائی کنسٹرینڈ” حالت میں دھکیل دیا۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ پاکستان کی درآمدی ایل این جی کا بڑا حصہ قطری سپلائی پر مشتمل ہوتا ہے، اس لیے تعطل نے بجلی اور صنعتی شعبے دونوں کے لیے فوری دباؤ پیدا کیا۔
البتہ ایک ضروری احتیاط بھی ہے۔ میں نے ہرمز بحران، پاکستان کی اسپاٹ مارکیٹ میں واپسی، اور بڑھتی قیمتوں کے عمومی رجحان کی تصدیق کی، لیکن 18.4 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو کے مخصوص ہندسے کے بارے میں مجھے اس تلاش میں کوئی ایسا مضبوط عوامی بنیادی دستاویزاتی ثبوت نہیں ملا جو اسے باضابطہ طور پر حتمی ایوارڈ شدہ کارگو ثابت کرے۔ اس لیے صحافتی احتیاط یہی کہتی ہے کہ اس عدد کو فی الحال “رپورٹ ہونے والی سطح” یا “ممکنہ سودا/بولی” کے طور پر پیش کیا جائے، نہ کہ سو فیصد تصدیق شدہ سرکاری معاہدہ سمجھ کر۔ پرانے ریکارڈ ضرور دکھاتے ہیں کہ پاکستان نے ماضی میں 18 ڈالر سے اوپر کی بولیاں وصول کی تھیں، اس لیے یہ سطح غیر معمولی نہیں، مگر موجودہ بحران سے جوڑتے ہوئے ثبوت کی درجہ بندی واضح رکھنا ضروری ہے۔
پاکستان کے لیے مسئلہ صرف قیمت کا نہیں، وقت کا بھی ہے۔ ملک عام حالات میں ہر ماہ قطر سے تقریباً 9 سے 10 ایل این جی کارگو لیتا ہے۔ مگر موجودہ بحران میں اپریل کے شیڈول کارگوز کی آمد بھی غیر یقینی بتائی گئی۔ ایسے میں حکومت کو اسپاٹ خریداری، متبادل سپلائرز، اور بجلی کے نظام کو چلانے کے لیے فوری انتظامات ایک ساتھ دیکھنے پڑ رہے ہیں۔ یہی وہ پس منظر ہے جس میں مہنگی ایل این جی بھی “ناگزیر” لگنے لگتی ہے۔
یہ صورتِ حال اس لیے بھی تشویشناک ہے کہ پاکستان کی مقامی گیس پیداوار مسلسل دباؤ میں ہے، جبکہ گرمیوں میں بجلی کی طلب بڑھنے پر درآمدی گیس کی اہمیت اور بڑھ جاتی ہے۔ ایس اینڈ پی گلوبل کی رپورٹ کے مطابق رواں مالی سال کے ابتدائی نو ماہ میں پاکستان کا ایل این جی درآمدی بل کم ہو کر 1.884 ارب ڈالر رہا، جو ایک سال پہلے اسی مدت میں 2.682 ارب ڈالر تھا۔ بظاہر یہ کمی اچھی خبر لگتی ہے، لیکن موجودہ جھٹکے نے ثابت کر دیا کہ کم درآمدی بل ہمیشہ محفوظ توانائی نظام کی علامت نہیں ہوتا؛ بعض اوقات یہ صرف طوفان سے پہلے کا سکون ہوتا ہے۔
اس بحران نے پاکستان کی ایک اور کمزوری بھی نمایاں کر دی ہے: سپلائی کا ارتکاز۔ الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کی تقریباً پوری ایل این جی درآمدات قطر اور متحدہ عرب امارات سے وابستہ ہیں۔ جب ایک ہی خطہ جغرافیائی، عسکری یا بحری خطرے کی زد میں آ جائے تو پاکستان جیسے قیمت کے لحاظ سے حساس خریدار سب سے پہلے دباؤ میں آتے ہیں۔ یہ وہی بنیادی مسئلہ ہے جو آج کے بحران کو محض عارضی مارکیٹ اتار چڑھاؤ سے کہیں زیادہ سنگین بنا رہا ہے۔
اگر 18.4 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو کے قریب خریداری واقعی طے پاتی ہے، تو اس کے اثرات سیدھے صارفین اور معیشت تک جائیں گے۔ مہنگی ری گیسیفائیڈ ایل این جی کا مطلب یا تو بجلی کے نرخوں پر دباؤ، یا حکومتی سبسڈی کا بوجھ، یا پھر صنعتی و توانائی طلب میں کٹوتی۔ تینوں راستے تکلیف دہ ہیں۔ پاکستان اس سے پہلے بھی مہنگی ایل این جی کے باعث بجلی، صنعت اور گردشی قرضے کے دباؤ کا سامنا کر چکا ہے، مگر اس بار فرق یہ ہے کہ محرک صرف مارکیٹ نہیں بلکہ ایک بڑا جغرافیائی تنازع ہے۔
خبر کا خلاصہ سادہ ہے، مگر اثر بہت گہرا۔ آبنائے ہرمز کی بندش یا عملی رکاوٹ نے پاکستان کو ایسے وقت میں مہنگی ایل این جی کی طرف دھکیلا ہے جب ملک سستی اور قابلِ اعتماد توانائی کا متحمل نہیں۔ 18.4 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو کا ہندسہ خواہ حتمی معاہدہ ثابت ہو یا بحران زدہ مارکیٹ کی رپورٹ شدہ سطح، یہ واضح ہے کہ پاکستان کے لیے سستی گیس کا دور فی الحال پیچھے چھوٹتا دکھائی دے رہا ہے۔ اب اصل سوال یہ نہیں کہ کارگو کتنے میں ملے گا، بلکہ یہ ہے کہ ملک کتنی دیر تک یہ قیمت برداشت کر سکے گا۔
