سنجے دت نے بلو بلرام کو دوبارہ زندہ کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ ‘کھل نائیک’ کی ریلیز کے 30 سال بعد، اداکار نے اس شاہکار فلم کے سیکوئل پر کام شروع کرنے کی باضابطہ تصدیق کر دی ہے، جس کے ساتھ ہی ان کے مشہور ترین کردار کی واپسی سے متعلق برسوں سے جاری قیاس آرائیاں ختم ہو گئی ہیں۔
یہ اعلان سنجے دت اور معروف فلم ساز سبھاش گھئی کے درمیان ہونے والی حالیہ ملاقاتوں کے بعد سامنے آیا ہے۔ 1993 میں ریلیز ہونے والی اصل فلم کا اختتام بلو کی گرفتاری اور اصلاح پر ہوا تھا، لیکن اب ‘مکتا آرٹس’ ایک ایسا اسکرپٹ تیار کر رہا ہے جو اس کہانی کو موجودہ دور کے تناظر میں آگے بڑھائے گا۔
یہ خبر محض ایک فلمی اعلان نہیں بلکہ بالی وڈ کے ایک عہد کی واپسی ہے۔ ‘کھل نائیک’ اس وقت ایک تہذیبی علامت بن کر ابھری تھی جب خود سنجے دت کی اپنی زندگی شدید بحرانوں کا شکار تھی۔ اب 64 سال کی عمر میں اس مخصوص کردار میں دوبارہ ڈھلنا سنجے دت کے لیے اپنی اس وراثت کو بچانے کی کوشش ہے جس نے انہیں ہندی سینما کا ‘بیڈ بوائے’ بنایا تھا۔
سنجے دت نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ "اسکرپٹ تقریباً تیار ہے”۔ انہوں نے شوٹنگ کے شیڈول کا تو ذکر نہیں کیا، لیکن یہ واضح کر دیا کہ یہ پراجیکٹ ان کی ترجیحات میں سرِ فہرست ہے۔
اصل فلم میں جیکی شروف اور مادھوری ڈکشت نے ایسے کردار نبھائے تھے جو ان کے کیریئر کی پہچان بن گئے۔ اگرچہ سیکوئل میں ان کی شمولیت کے بارے میں ابھی خاموشی ہے، لیکن ذرائع بتاتے ہیں کہ نئی کہانی میں سنجے دت کے ساتھ کسی نوجوان اداکار کو بطور لیڈ کاسٹ کیا جا سکتا ہے۔ پروڈکشن ٹیم کے لیے سب سے بڑا چیلنج فلم کی موسیقی ہوگی؛ ‘چولی کے پیچھے’ اور ٹائٹل ٹریک جیسے لازوال گانوں کا جادو دوبارہ جگانا آسان کام نہیں ہوگا۔
سبھاش گھئی پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ وہ اس وقت تک ‘کھل نائیک’ کو ہاتھ نہیں لگائیں گے جب تک کہانی اس کے ساتھ انصاف نہ کرے۔ اب جبکہ اسکرپٹ آخری مراحل میں ہے، اصل امتحان یہ ہوگا کہ کیا آج کا جدید ناظرین 90 کی دہائی کے اس باغی کردار سے جڑ پائے گا؟
‘کے جی ایف 2’ جیسی فلموں کی کامیابی نے ثابت کیا ہے کہ سنجے دت کا اسکرین پر دبدبہ آج بھی برقرار ہے۔ وہ صرف ایک کردار ادا نہیں کر رہے، بلکہ اس سحر کو واپس لا رہے ہیں جس نے انہیں سپر اسٹار بنایا تھا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا بلو بلرام کی یہ بغاوت بدلتے ہوئے ہندوستان میں وہی پرانا اثر دکھا پائے گی یا نہیں۔
