لاہور کے علاقے اچھرہ میں تین کم سن بہن بھائیوں کے قتل کے مقدمے میں تفتیش نے ایک نیا اور نہایت افسوسناک رخ اختیار کر لیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ابتدائی تحقیقات سے شبہ ظاہر ہوتا ہے کہ بچوں کی ماں نے مبینہ طور پر شدید مالی تنگی اور گھریلو دباؤ کے تحت یہ قدم اٹھایا، تاہم فرانزک رپورٹ اور دیگر شواہد ابھی مکمل طور پر سامنے نہیں آئے، اس لیے کیس کا حتمی قانونی نتیجہ آنا باقی ہے۔
یہ واقعہ 23 اپریل کو پیش آیا، جب پولیس کو ایک ہنگامی اطلاع موصول ہوئی اور گھر کے اندر تین بچوں کی لاشیں برآمد ہوئیں۔ بعد ازاں بچوں کی والدہ، جسے مقامی میڈیا میں ردا فاطمہ کے نام سے شناخت کیا گیا، کو حراست میں لے لیا گیا۔ اس کے بعد سے پولیس اسی پہلو پر تفتیش آگے بڑھا رہی ہے۔
حالیہ پیش رفت میں عدالت نے ملزمہ کو جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا تاکہ مزید پوچھ گچھ، طبی معائنہ اور دیگر تفتیشی مراحل مکمل کیے جا سکیں۔ بعض میڈیا رپورٹس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ دورانِ تفتیش ماں نے اعتراف کیا، لیکن ایسی کسی بھی بات کی اصل حیثیت عدالت میں شواہد اور فرانزک مواد کی بنیاد پر ہی طے ہوگی۔
کیس میں سب سے اہم تبدیلی اس وقت سامنے آئی جب پولیس نے مبینہ محرک پر روشنی ڈالی۔ تفتیشی حکام کے مطابق غربت، مالی بحران اور گھریلو دباؤ اس سانحے کے ممکنہ اسباب کے طور پر سامنے آئے ہیں۔ بعض رپورٹس کے مطابق بچے کچھ عرصہ قبل دوبارہ ماں کے پاس آئے تھے، اور پولیس یہ جاننے کی کوشش کر رہی ہے کہ آیا گھر کے اندر بڑھتی ہوئی مشکلات نے حالات کو اس نہج تک پہنچایا۔
تحقیقات صرف بیانات تک محدود نہیں رہیں۔ پولیس نے ڈیجیٹل شواہد، سی سی ٹی وی فوٹیج اور مالی لین دین سے متعلق پہلوؤں کا بھی جائزہ لینا شروع کر دیا ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ تفتیش کار اب محض ایک مبینہ اعتراف پر انحصار کرنے کے بجائے پورا واقعاتی سلسلہ شواہد کی مدد سے جوڑنا چاہتے ہیں۔
جائے وقوعہ سے ملنے والی تفصیلات بھی نہایت ہولناک ہیں۔ مقامی میڈیا کے مطابق کمرے اور باتھ روم سے خون کے نشانات ملے ہیں، جبکہ فرانزک ٹیم اس بات کا تعین کر رہی ہے کہ واقعے کی ترتیب کیا تھی اور بچوں کی موت کس انداز میں واقع ہوئی۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ اصل تصویر فرانزک نتائج آنے کے بعد ہی زیادہ واضح ہو سکے گی۔
اس وقت اس مقدمے میں جو “نیا موڑ” سامنے آیا ہے، وہ یہی ہے کہ پولیس اسے صرف ایک گھریلو قتل کا واقعہ نہیں سمجھ رہی بلکہ ایک ایسے سانحے کے طور پر دیکھ رہی ہے جس کے پیچھے شدید معاشی پریشانی اور گھریلو دباؤ کارفرما ہو سکتے ہیں۔ البتہ یہ اب بھی تفتیشی مؤقف ہے، حتمی فیصلہ نہیں۔ اصل سوال یہی رہے گا کہ آیا دستیاب شواہد اور فرانزک رپورٹ اس مؤقف کی تائید کرتے ہیں یا نہیں۔
