اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے جمعرات کو تصدیق کی کہ پاکستان کو سعودی عرب کی وزارتِ خزانہ سے 2 ارب ڈالر موصول ہوئے ہیں، جبکہ اس رقم کی ویلیو ڈیٹ 15 اپریل 2026 بتائی گئی۔ یہ رقم ایسے وقت میں آئی ہے جب پاکستان اپنے زرمبادلہ ذخائر کو مضبوط بنانے اور بیرونی ادائیگیوں کے دباؤ کو کم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
مرکزی بینک کے مختصر بیان میں بتایا گیا کہ یہ رقم سعودی حکومت کی جانب سے پاکستان کے مالیاتی استحکام میں مدد کے لیے دی گئی۔ بظاہر اعلان مختصر تھا، مگر اس کی اہمیت خاصی بڑی ہے، کیونکہ 2 ارب ڈالر کی یہ آمد پاکستان کے بیرونی کھاتے کو فوری سہارا دے سکتی ہے۔
اس پیش رفت کا ایک بڑا پس منظر بھی ہے۔ وفاقی وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے اس سے ایک روز قبل کہا تھا کہ سعودی عرب نے مزید 3 ارب ڈالر کے ڈپازٹس دینے کا عندیہ دیا ہے، جبکہ پہلے سے موجود 5 ارب ڈالر کی سعودی سہولت کو رول اوور کے بجائے تین سال کے لیے توسیع دینے پر بھی آمادگی ظاہر کی گئی ہے۔ یہ تبدیلی اس لیے اہم ہے کیونکہ اس سے پاکستان پر قلیل مدتی ادائیگیوں کا دباؤ نسبتاً کم ہو سکتا ہے۔
اس رقم کی آمد اس لیے بھی اہم سمجھی جا رہی ہے کہ اس سے پہلے اسٹیٹ بینک کے پاس موجود زرمبادلہ ذخائر تقریباً 16.40 ارب ڈالر بتائے جا رہے تھے۔ ایسے میں 2 ارب ڈالر کا اضافہ نہ صرف ذخائر کو سہارا دیتا ہے بلکہ مارکیٹ کو بھی ایک مثبت اشارہ دیتا ہے کہ پاکستان کو اپنے اہم اتحادیوں کی مالی حمایت حاصل ہے۔
ماہرین کے نزدیک یہ پیش رفت وقتی ریلیف ضرور دیتی ہے، مگر پاکستان کے بیرونی شعبے کے بنیادی مسائل اب بھی موجود ہیں۔ قرض ادائیگیاں، درآمدی دباؤ اور بیرونی فنڈنگ کی مسلسل ضرورت وہ عوامل ہیں جو معیشت کو بدستور نازک بنائے ہوئے ہیں۔ اس کے باوجود، سعودی عرب کی جانب سے یہ امداد حکومت کے لیے ایک اہم مالی سہارا مانی جا رہی ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب ملک کو اپنے ذخائر مستحکم رکھنے کی اشد ضرورت ہے۔
