ترکی کی میزائل ساز کمپنی روکیٹسان ایک ایسے وقت میں اپنی برآمدی پوزیشن مضبوط کرنے کی کوشش کر رہی ہے جب انقرہ کھل کر یہ ہدف دہرا رہا ہے کہ 2028 تک ترکی کو دفاعی برآمدات کرنے والے دنیا کے ٹاپ 10 ممالک میں شامل کیا جائے۔ صدر رجب طیب اردوان نے 7 اپریل کو انقرہ میں روکیٹسان کی نئی تنصیبات کے افتتاح پر کہا کہ ترکی 2028 میں دفاعی اور ہوا بازی کی برآمدات کو 11 ارب ڈالر تک لے جانا چاہتا ہے۔ اسی موقع پر انہوں نے یہ بھی کہا کہ 2025 میں اس شعبے کی برآمدات 10 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئیں، جبکہ 2026 کی پہلی سہ ماہی میں یہ 1.91 ارب ڈالر رہیں، جو سال بہ سال اضافہ ظاہر کرتی ہیں۔
روکیٹسان کے لیے اصل سوال یہ نہیں کہ ہدف بڑا ہے یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ کیا کمپنی اتنی تیزی سے پیداوار بڑھا سکتی ہے کہ بڑھتی ہوئی طلب کو پورا کر سکے۔ حالیہ رپورٹوں کے مطابق کمپنی نے نئی پیداواری سہولیات کھولی ہیں، جن میں وارہیڈ فیسلٹی، میزائل انٹیگریشن یونٹس، اور کریقیلے میں فیول پروڈکشن فیسلٹی شامل ہیں۔ ان اقدامات کو ایک بڑے انفراسٹرکچر پروگرام کا حصہ بتایا گیا ہے، جس کا مقصد جدید میزائل اور فضائی دفاعی نظام زیادہ رفتار سے تیار کرنا ہے۔
کمپنی کے سربراہ مراد اکنجی اس سال کو پہلے سے “نتائج کا سال” قرار دیتے آ رہے ہیں۔ جنوری میں ان کے دیے گئے بیانات کے مطابق 2026 وہ مرحلہ ہے جب پچھلے برسوں کی سرمایہ کاری عملی پیداوار اور سیریل پروڈکشن میں بدلنا شروع ہوگی۔ انہوں نے کہا تھا کہ 2025 میں روکیٹسان کا کاروباری حجم 2 ارب ڈالر سے اوپر چلا گیا، جبکہ برآمدات میں بھی 50 فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا۔ اس سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ کمپنی اب صرف ملکی ضرورت پوری کرنے والی صنعت نہیں رہی، بلکہ باقاعدہ عالمی سپلائر بننے کی سمت بڑھ رہی ہے۔
مشرقِ وسطیٰ کا جاری تنازع اس پوری کہانی کا اہم پس منظر ہے۔ حالیہ رپورٹنگ سے ظاہر ہوتا ہے کہ خلیجی ریاستیں ایرانی ڈرونز اور میزائل خطرات کے بعد اپنی دفاعی صلاحیتیں تیزی سے مضبوط کرنا چاہتی ہیں، اور کچھ ممالک امریکی سپلائی میں تاخیر کے باعث متبادل ذرائع بھی تلاش کر رہے ہیں۔ اسی تناظر میں یہ اندازہ معقول لگتا ہے کہ میزائل، فضائی دفاع اور متعلقہ ہتھیاروں کی مانگ بڑھی ہے، اور روکیٹسان جیسی کمپنیوں کو اس ماحول سے تجارتی فائدہ پہنچ سکتا ہے۔
لیکن اس راستے میں مقابلہ آسان نہیں۔ ترکی کو اگر واقعی عالمی ٹاپ 10 دفاعی برآمد کنندگان میں جگہ بنانی ہے تو صرف فیکٹریاں کھولنا کافی نہیں ہوگا۔ اسے مسلسل پیداوار، بروقت ترسیل، مزید برآمدی معاہدے، اور سخت بین الاقوامی مقابلے میں اپنی جگہ بنانی ہوگی، جہاں امریکی، یورپی، اسرائیلی، جنوبی کوریائی اور دوسرے ایشیائی سپلائر پہلے ہی مضبوط موجودگی رکھتے ہیں۔ پھر بھی اتنا واضح ہے کہ انقرہ اس لمحے کو ایک موقع کے طور پر دیکھ رہا ہے، اور روکیٹسان اس حکمتِ عملی کے مرکز میں کھڑی ہے۔
