اسلام آباد (22 جون 2025):
پاکستان کے دو ممتاز علماء، مفتی محمد تقی عثمانی اور مفتی منیب الرحمان نے امریکی فضائی حملوں اور پاکستان کی سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے 2026 کے نوبل امن انعام کی نامزدگی پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ جعلسازی اوربعدِ الفاظ میں تضاد کے باعث دونوں رویوں پر ان کی تنقید نے سرکاری خارجہ پالیسی کو سوالات کی زد میں لا دیا ہے۔
امریکی فضائی کارروائیوں کی مذمّت
22 جون کی شب، امریکی طیاروں نے ایران کے تین جوہری مراکز – فورڈو، نطنز اور اصفہان – پر بمباری کی، جس کے فوراً بعد پاکستان کے دفترخارجہ نے اسے “بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی” قرار دیا اور اس سے خطّے میں کشیدگی کے بڑھنے کا خدشہ ظاہر کیا ۔
مفتی تقی عثمانی نے اس حملے کو “بین الاقوامی اصولوں کی خلاف ورزی” قرار دیتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ مسلم اُمہ کے مفادات کا دفاع مضبوطی سے کرے ۔
ٹرمپ کی امن انعام نامزدگی پر تنقید
پاکستان نے 21 جون کو ٹرمپ کی نوبل امن انعام کے لیے باقاعدہ اسپانسرشیپ کا اعلان کیا، یہ دعویٰ کرتے ہوئے کہ انہوں نے بھارت–پاکستان سرحدی بحران کے دوران ثالثی کا کردار ادا کیا ۔مفتی تقی عثمانی نے سوال اٹھایا کہ کیا ایک ایسے شخص کو امن انعام کے لیے پیش کیا جا سکتا ہے، جو مڈل ایسٹ میں فوجی تنازعات کا حصہ رہا ۔مفتی منیب الرحمان نے بھی وزیراعظم شہباز شریف کی خارجہ پالیسی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ اس فیصلے سے پاکستان کی اخلاقی ساکھ کو نقصان پہنچتا ہے ۔
سابق سفیر ملیحہ لودھی اور دیگر تجزیہ کار بھی نعرہ لگاتے ہیں کہ ٹرمپ کی حمایت عنصرِ سیاسی اثرو رسوخ کے سوا کچھ نہیں، جبکہ اس اقدام سے پاکستان کا بین الاقوامی تشخص مجروح ہو سکتا ہے ۔
عوامی سطح پر سوشل میڈیا پر “پاکستان کی دوغلی پالیسی” پر ناراضگی پائی جاتی ہے کہ ایک طرف ایران کی مخالفت ہو رہی ہے اور دوسری طرف ٹرمپ جیسے متنازع شخصیت کی حمایت ۔امریکی حملے 22 جون 2025 ایرانی جوہری مراکز فورڈو، نطنز اور اصفہان پر بمباری. نوبل نامزدگی 21 جون 2025 پاکستان نے ٹرمپ کو 2026 کے امن انعام کے لیے نامزد کیا
مفتی تقی عثمانی اور منیب الرحمان کا پیغام ایک ایسی خارجہ پالیسی کی نفی میں ہے جو تصادم کے دوران تربیت یا انصاف کی بنیاد پر نہیں بنائی گئی۔ ان کا اصرار ہے کہ حکومت مسلم اُمہ کی حمایت اور اخلاقی اصولوں کو پیشِ نظر رکھے، نہ کہ اسٹیج مینجمنٹ یا علامتی سیاست پر مبنی فیصلے کرے۔
