کراچی — آئل سیکٹر کے ذرائع کے مطابق بلوچستان کے اندر تیل کے ٹینکرز کو نشانہ بنائے جانے کے بعد اسمگل شدہ ایرانی تیل کی آمد میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے، جس سے اس غیر قانونی کاروبار سے وابستہ افراد کو بھاری مالی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اگرچہ تیل کی اسمگلنگ طویل عرصے سے جاری تھی، تاہم 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کے درمیان شروع ہونے والی جنگ اور آبنائے ہرمز کی بندش کے بعد عالمی سطح پر تیل کی قیمتیں سو ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئیں، جس کے بعد ایران سے تیل کی درآمد میں غیر معمولی اضافہ ہوا۔ پاکستان کو بھی توانائی کے اس عالمی بحران کا سامنا کرنا پڑا، تاہم بھارت، بنگلہ دیش اور سری لنکا کے برعکس یہاں تیل کی باقاعدہ راشننگ کی نوبت نہیں آئی، جس کی ایک بڑی وجہ بلوچستان سے لے کر سندھ اور پنجاب تک رسائی حاصل کرنے والا ایرانی اسمگل شدہ تیل بھی تھا۔
آئل مارکیٹ کے مطابق سیکیورٹی خدشات اور ٹینکرز پر حملوں کے باعث اسمگلنگ میں کم از کم 60 فیصد کمی آ چکی ہے۔ ایران کے ساتھ پاکستان کی غیر قانونی تجارت کا حجم دو ارب ڈالر سے زائد سالانہ ہے، اور بحران کے دوران حکام کی جانب سے مبینہ طور پر چشم پوشی اختیار کیے جانے کی وجہ سے ملک میں ایندھن کی شدید قلت سے بچنے میں مدد ملی۔ پاکستان بیورو آف شماریات کے مطابق مالی سال 2026 میں پاکستان نے پیٹرولیم مصنوعات کی درآمد پر ریکارڈ 16.86 ارب ڈالر خرچ کیے، جو کہ کل درآمدی بل کا تقریباً 22 فیصد بنتا ہے، جبکہ مالی سال 2025 میں یہ بل 15.94 ارب ڈالر تھا۔ حکومتی سطح پر عالمی قیمتوں کا بوجھ صارفین پر ڈالا جاتا رہا، تاہم غیر رسمی طور پر آنے والے تیل نے ملک کو بڑے معاشی و توانائی کے بحران سے بچائے رکھا۔
