کراچی — مالی سال 2026ء کے دوران گندم کی ملکی پیداوار میں چار عشاریہ تین فیصد اضافے کے باوجود وفاقی حکومت کی جانب سے ایک ملین ٹن گندم درآمد کرنے کا فیصلہ گندم اور آٹے کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کو روکنے میں ناکام رہا ہے۔ حساس قیمت کے اشاریہ (ایس پی آئی) کے اعداد و شمار کے مطابق بیس کلو آٹے کا تھیلا، دس کلو گندم اور ایک کلو فائن آٹا مہنگا ہو کر بالترتیب 2,200 سے 3,133 روپے، 1,223 روپے اور 152.14 روپے تک پہنچ گیا ہے۔ کراچی میں بھی فلور ملز ایسوسی ایشن نے آٹے کے پچاس کلو کے تھیلوں کے نرخ بڑھا دیے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ذخیرہ اندوزی، مؤثر قیمت مانیٹرنگ کا فقدان اور پیداوار کے حوالے سے تضادات اس بحران کی بنیادی وجوہات ہیں۔
گندم کی درآمد کے معاملے پر تجارتی حلقے بھی دو حصوں میں تقسیم نظر آتے ہیں۔ کراچی ہول سیلرز گروسرز ایسوسی ایشن (KWGA) کے چیئرمین رؤف ابراہیم نے سرکاری پیداواری اعداد و شمار پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اصل پیداوار طلب سے کم ہے، اس لیے حکومت کو خود درآمدی عمل کو سنبھالنا چاہیے تاکہ ذخیرہ اندوزی کی روکتھام ہو سکے۔ اس کے برعکس، سیریل ایسوسی ایشن آف پاکستان (CAP) کے چیئرمین مزمل چاپل کا مؤقف ہے کہ نجی شعبہ بغیر کسی ملکی سبسڈی کے اپنے وسائل سے معیاری گندم درآمد کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے، جس سے مارکیٹ میں رسد بہتر اور قیمتیں مستحکم ہو سکیں گی۔
