برسلز — اتوار سے یورپی یونین نے اپنے تاریخی مصنوعی ذہانت (اے آئی) قوانین کو نافذ کرنے اور خلاف ورزی کرنے والی کمپنیوں پر بھاری جرمانے عائد کرنے کے اختیارات سنبھال لیے ہیں۔ دنیا کے اس سب سے جامع ڈیجیٹل ضابطے کے تحت، ٹیکنالوجی کو خطرے کی سطح کی بنیاد پر جانچا جائے گا، جہاں انسانی حقوق اور صحت کے لیے زیادہ خطرہ بننے والے سسٹمز پر کڑی شرائط لاگو ہوں گی۔ نئے قوانین کے تحت چیٹ بوٹس کا اے آئی ہونا ظاہر کرنا لازمی ہوگا، ڈیفیکس اور مصنوعی مواد کی نشاندہی کرنا ہوگی، جبکہ پیشگوئی پر مبنی پولیسنگ، تعلیمی اداروں یا دفاتر میں جذبات کی شناخت کے سسٹمز اور انسانی رویے کو کنٹرول کرنے والے اے آئی ٹولز پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے۔
ان قوانین پر عمل درآمد کے لیے یورپی یونین کے ‘اے آئی آفس’ کے ماہرین کو جدید ترین جنرل پرپز اے آئی ماڈلز کی جانچ کرنے اور مارکیٹ میں آنے سے پہلے ان تک رسائی حاصل کرنے کا اختیار مل گیا ہے۔ قوانین کی خلاف ورزی کرنے والی کمپنیوں پر 35 ملین یورو یا ان کے سالانہ عالمی ٹرن اوور کا سات فیصد تک جرمانہ عائد کیا جا سکتا ہے۔ مزید برآں، غیر اخلاقی ڈیفیکس پر پابندی سمیت دیگر حفاظتی ضوابط رواں سال کے آخر تک نافذ کیے جائیں گے، جبکہ ہائی رسک سسٹمز کے لیے قوانین دسمبر 2027 اور اگست 2028 تک مکمل طور پر لاگو ہوں گے۔
