یورپ کا موسمِ گرما اب بدل چکا ہے۔ جو مہینے کبھی ساحلی تعطیلات اور خوشگوار شاموں کی علامت سمجھے جاتے تھے، اب وہ ہیٹ ویوز، پگھلتی ہوئی سڑکوں اور صحت کے ہنگامی الرٹس کے مترادف ہو چکے ہیں۔ یہ صرف موسم کی تبدیلی نہیں، بلکہ ایک پورے براعظم کا معمول تبدیل ہو رہا ہے۔
اعداد و شمار واضح ہیں۔ گزشتہ ایک دہائی کے دوران یورپ کا درجہ حرارت دنیا کی اوسط سے دوگنا تیزی سے بڑھا ہے۔ بحیرہ روم کے علاقوں میں پارہ اب باقاعدگی سے 45 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ جاتا ہے، جس سے سیاحتی مراکز دوپہر کے وقت انسانی نقل و حرکت کے لیے خطرناک مقامات میں بدل جاتے ہیں۔
یہ گرمی اب عارضی نہیں، مستقل ہے۔ "ہیٹ ڈوم” جیسے موسمی مظاہر، جو کبھی کبھار کی بات تھے، اب معمول بن چکے ہیں۔ اس نسل کے لیے جس نے ایئر کنڈیشننگ کو کبھی ایک لگژری یا غیر ضروری چیز سمجھا تھا، اب یہ زندہ رہنے کی بنیادی ضرورت بن چکی ہے۔
میلان میں مقیم کلائمیٹ ریسرچر ڈاکٹر ایلینا روسی کہتی ہیں: "ہم اپنے والدین کے دور سے بالکل مختلف آب و ہوا میں رہ رہے ہیں۔ اب آپ صرف گرمی کے گزر جانے کا انتظار نہیں کر سکتے، آپ کو اپنی پوری زندگی ہی اس گرمی کے گرد ترتیب دینی پڑتی ہے۔”
اس تبدیلی کے اثرات ہر جگہ نمایاں ہیں۔ برطانیہ اور فرانس کے تعلیمی ادارے کلاس رومز میں درجہ حرارت کنٹرول کرنے کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں، کیونکہ وہاں کی عمارتیں سردیوں میں گرمی کو اندر رکھنے کے لیے بنائی گئی تھیں۔ جرمنی اور اسپین میں ریل کے نظام کو شدید دباؤ کا سامنا ہے، کیونکہ پٹڑیاں گرمی سے ٹیڑھی ہو رہی ہیں۔ یہ محض چھوٹی مشکلات نہیں، بلکہ اس انفراسٹرکچر کی ناکامی ہے جو ایک ایسی دنیا کے لیے بنایا گیا تھا جو اب وجود نہیں رکھتی۔
معاشی نقصان بھی بڑھ رہا ہے۔ زراعت، جو دیہی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے، طویل خشک سالی سے تباہ ہو رہی ہے۔ زیتون کے تیل کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں کیونکہ جنوبی یورپ کے باغات خشک مٹی میں زندہ رہنے کی کشمکش میں ہیں۔ کسان اب صرف کیڑوں یا منڈی کے اتار چڑھاؤ سے نہیں، بلکہ کلینڈر سے لڑ رہے ہیں۔
عوامی صحت سب سے بڑا چیلنج ہے۔ 2022 اور 2023 کی ہیٹ ویوز کے دوران یورپ بھر میں ہزاروں اموات ہوئیں، جن میں بڑی تعداد معمر افراد کی تھی۔ ہسپتال اب گرمیوں کو بھی اسی طرح ایک ہنگامی صورتحال کے طور پر دیکھتے ہیں جیسے کبھی فلو کے سیزن کو دیکھا جاتا تھا۔
یورپی موسمِ گرما کا سماجی معاہدہ ٹوٹ رہا ہے۔ جنوبی یورپ کی ‘سیستا’ (دوپہر کی نیند) اب پورے براعظم کے لیے زندہ رہنے کی ضرورت بن گئی ہے۔ لوگ اپنے کام کے اوقات تبدیل کر رہے ہیں، دوپہر میں پبلک ٹرانسپورٹ سے گریز کر رہے ہیں اور ان علاقوں کا رخ کرنے سے کتراتے ہیں جو کبھی خوشگوار مانے جاتے تھے۔
جیسے جیسے یورپ ایک اور گرم موسم میں داخل ہو رہا ہے، سوال یہ نہیں کہ گرمی کتنی ہوگی، بلکہ یہ ہے کہ جب تک پالیسی سازوں کے اقدامات تھرمامیٹر کی ریڈنگ سے مطابقت نہیں رکھتے، تب تک مزید کتنا کچھ پگھل جائے گا۔
