نئی امریکی انتظامیہ نے بیرونی کام کرنے والے مزدوروں کو شدید گرمی سے بچانے کے وفاقی منصوبوں کو ختم کرنے کا عندیہ دیا ہے۔ ٹرانزیشن ٹیم کے حکام نے تصدیق کی ہے کہ اوشا کا وہ مجوزہ ضابطہ کار اب ختم کیا جا رہا ہے جس کے تحت آجروں پر مزدوروں کو پانی، سایہ اور وقفے فراہم کرنا لازمی قرار دیا جانا تھا۔
یہ فیصلہ بائیڈن دور کی لیبر پالیسیوں سے ایک بڑا انحراف ہے۔ گزشتہ تین برسوں کے دوران اوشا حکام ایک ایسے معیار پر کام کر رہے تھے جس کے تحت درجہ حرارت ایک خاص سطح سے بڑھنے پر آجروں کو کولنگ اسٹیشنز اور آرام کے وقفے دینا لازمی ہوتے۔ اب یہ مسودہ عملی طور پر ختم کر دیا گیا ہے۔
تعمیراتی اور زرعی شعبوں کی لابنگ کرنے والی تنظیموں نے طویل عرصے سے اس وفاقی مینڈیٹ کی مخالفت کی ہے۔ ان کا موقف ہے کہ یہ ضابطے مہنگے ہیں اور ان میں علاقائی موسمی حالات کو نظر انداز کیا گیا ہے۔ ان تنظیموں نے اس مجوزہ قانون سازی کو حکومتی مداخلت قرار دے کر اسے روکنے کے لیے بھاری سرمایہ کاری کی تھی۔
ایک ہاؤس بلڈنگ ایسوسی ایشن کے نمائندے نے کہا، "ہمیں لچک چاہیے، نہ کہ واشنگٹن کی بیوروکریسی کی طرف سے مائیکرو مینجمنٹ۔ آجر جانتے ہیں کہ اپنے عملے کو کیسے محفوظ رکھنا ہے۔”
دوسری طرف لیبر حقوق کے کارکنان اسے مزدوروں کی زندگیوں کے ساتھ کھلواڑ قرار دے رہے ہیں۔ 2024 ریکارڈ گرم ترین سال رہا ہے اور کھیتوں میں کام کرنے والے مزدوروں، چھتیں ڈالنے والے کاریگروں اور گوداموں کے عملے میں گرمی سے متاثر ہونے کے واقعات میں تیزی آئی ہے۔ لیبر شماریات کے بیورو کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ 2020 کے بعد سے گرمی سے اموات میں اضافہ ہوا ہے، تاہم ماہرین کا ماننا ہے کہ اموات کے سرٹیفکیٹس میں غلط اندراج کے باعث اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے۔
وفاقی معیار کی عدم موجودگی میں مزدور اب مکمل طور پر ریاستی قوانین پر انحصار کرنے پر مجبور ہیں۔ کیلیفورنیا اور واشنگٹن جیسے علاقوں میں تو مزدوروں کو کچھ تحفظ حاصل ہے، لیکن ٹیکساس اور فلوریڈا جیسی ریاستوں نے مقامی قوانین کو پہلے ہی ختم کر دیا ہے، جس سے شہروں کی جانب سے پانی کے وقفے لازمی قرار دینے کا اختیار بھی چھین لیا گیا ہے۔
یہ اقدام صرف ایک ضابطے کی منسوخی نہیں، بلکہ یہ لیبر کے امور پر کام کرنے والے ریگولیٹری اداروں کے اثر و رسوخ کو محدود کرنے کی حکومتی حکمت عملی کا حصہ ہے۔ اس ضابطے کو حتمی شکل پانے سے پہلے ہی ختم کر کے انتظامیہ نے اس طویل قانونی لڑائی سے خود کو بچا لیا ہے جو اس کے نفاذ کے بعد متوقع تھی۔
شدید گرمی میں کام کرنے والے ان مزدوروں کے لیے اس پالیسی تبدیلی کا مطلب یہ ہے کہ اب ان کی حفاظت کا انحصار مکمل طور پر آجر کی صوابدید پر ہوگا۔ قانونی تحفظ کا راستہ بند ہو چکا ہے اور مزدور کی زندگی اب صرف قسمت کے سہارے ہے۔
