روم — اٹلی کی وزارتِ صحت نے ملک کے تقریباً تمام بڑے شہروں میں گرمی کا ‘ریڈ الرٹ’ جاری کر دیا ہے۔ درجہ حرارت میں غیر معمولی اضافے کے پیشِ نظر شہریوں کو دوپہر کے اوقات میں گھروں سے باہر نہ نکلنے کی سخت ہدایت کی گئی ہے۔
حکومتی وارننگ سسٹم کے مطابق یہ چوتھے اور آخری درجے کا الرٹ ہے۔ روم، فلورنس، بولوگنا اور ٹورین جیسے اہم مراکز میں درجہ حرارت 40 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچنے کا امکان ہے۔ یہ شدت صرف بزرگوں یا بیمار افراد کے لیے نہیں، بلکہ عام شہریوں کی صحت کے لیے بھی براہِ راست خطرہ ہے۔
دارالحکومت کے ہسپتالوں میں ہیٹ اسٹروک اور پانی کی کمی کے شکار مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔ طبی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ شدید گرمی کے دوران جسم میں پانی کا توازن برقرار رکھنا زندگی بچانے کے لیے ناگزیر ہے۔
اس گرم لہر کی وجہ شمالی افریقہ سے آنے والا ایک طاقتور اینٹی سائیکلون ہے، جس نے بحیرہ روم کے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ یہ موسمی نظام غیر معمولی طور پر جمود کا شکار ہے، جس کے باعث رواں ہفتے کے اختتام تک درجہ حرارت میں نمایاں کمی کا کوئی امکان نہیں ہے۔
زرعی شعبے میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ شمالی اٹلی کے ‘پو ویلی’ کے علاقوں میں بارش نہ ہونے اور گرمی کی شدت سے فصلیں متاثر ہو رہی ہیں، جس کے بعد کئی بلدیات میں پانی کے استعمال پر پابندیاں عائد کر دی گئی ہیں۔
جنوبی یورپ میں گرمی کی یہ لہریں اب معمول بنتی جا رہی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث گرمی کی شدت اور دورانیے میں اضافہ ہوا ہے، جس نے اطالوی حکام کو شہری منصوبہ بندی پر نظرِ ثانی کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔ اب شہروں میں ‘گرین زونز’ کا قیام ایک ضرورت بن چکا ہے تاکہ شہری علاقوں میں گرمی کے اثرات کو کم کیا جا سکے۔
وزارتِ صحت کی جانب سے شہریوں کو صرف ایک ہی مشورہ دیا گیا ہے: ٹھنڈے مقامات پر رہیں، پانی کا زیادہ سے زیادہ استعمال کریں اور اپنے پڑوسیوں کا خیال رکھیں۔ گرمی کا یہ زور کب ٹوٹے گا، اس بارے میں فی الحال کوئی حتمی پیش گوئی نہیں کی گئی۔
