وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے گلگت بلتستان میں 100 میگاواٹ کے سولر پاور پراجیکٹ پر کام کی رفتار بڑھانے کا حکم دے دیا ہے۔ اسلام آباد میں ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کے دوران وزیر نے واضح کیا کہ خطے میں بجلی کا بحران مزید تاخیر کا متحمل نہیں ہو سکتا۔
گلگت بلتستان کے عوام طویل عرصے سے توانائی کی قلت سے نبردآزما ہیں۔ شدید سردیوں میں بجلی کی لوڈشیڈنگ اور متبادل کے طور پر مہنگے ایندھن والے جنریٹرز کا استعمال مقامی آبادی اور چھوٹے کاروباروں کے لیے کمر توڑ ثابت ہو رہا ہے۔ وفاقی حکومت اب اس منصوبے کے ذریعے خطے کو سستی اور پائیدار توانائی کی طرف لانا چاہتی ہے تاکہ قومی خزانے پر پڑنے والے سبسڈی کے بوجھ کو بھی کم کیا جا سکے۔
احسن اقبال نے وزارت امور کشمیر و گلگت بلتستان کو ہدایت کی کہ منصوبے کی راہ میں حائل تمام انتظامی رکاوٹوں کو فی الفور دور کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ زمین کے حصول سے لے کر تکنیکی فیزیبلٹی اسٹڈی تک، ہر مرحلے کو مقررہ وقت کے اندر مکمل کیا جائے۔
ذرائع کے مطابق، وزیر نے اس بات پر زور دیا کہ منصوبے کا سنگ بنیاد رواں مالی سال کے اختتام سے قبل رکھا جائے۔ طویل عرصے سے گلگت بلتستان میں شمسی توانائی کے وسیع امکانات پر بات تو ہوتی رہی ہے، مگر عملی پیش رفت کا فقدان ہمیشہ ایک سوالیہ نشان رہا ہے۔ اب وفاقی حکومت اس پراجیکٹ کو اپنی توانائی پالیسی کا اہم حصہ بنا کر خطے کی ضروریات پوری کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
اس منصوبے کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہے کہ وزارت اور مقامی حکام کتنی تیزی سے کاغذات سے نکل کر عملی کام شروع کرتے ہیں۔ اگر یہ 100 میگاواٹ کا سولر فارم تکمیل کو پہنچتا ہے، تو یہ گلگت بلتستان کی تاریخ میں قابلِ تجدید توانائی کا سب سے بڑا منصوبہ ہوگا، جس سے خطے میں بجلی کے بحران کے مستقل خاتمے کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ انتظامیہ ان احکامات پر کتنی تیزی سے عمل درآمد کرتی ہے، کیونکہ موسم سرما کی شدت سے قبل بجلی کی فراہمی کو یقینی بنانا حکومت کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔
