گوگل نے اپنے میسجنگ ایپ ’گوگل میسجز‘ میں ایک نیا فیچر متعارف کرایا ہے، جس کا مقصد چیٹ کے دوران شیئر کی جانے والی تصاویر میں مصنوعی ذہانت کے استعمال کا سراغ لگانا ہے۔
یہ اپ ڈیٹ، جو فی الحال بیٹا ورژن میں دیکھی گئی ہے، تصاویر کے ساتھ ‘کونٹینٹ کریڈینشلز’ کا اضافہ کرتی ہے۔ جب کوئی صارف ’میجک ایڈیٹر‘ یا ’میجک ایریزر‘ جیسے ٹولز کے ذریعے ترمیم شدہ تصویر بھیجے گا، تو گوگل اس کے ساتھ ایک ڈیجیٹل لیبل منسلک کر دے گا۔ یہ لیبل ایک طرح کا "نیوٹریشن لیبل” ہے جو یہ بتاتا ہے کہ تصویر کو تبدیل کرنے کے لیے کون سا سافٹ ویئر استعمال کیا گیا۔
یہ اقدام غلط معلومات کے پھیلاؤ کو روکنے کی ایک کوشش ہے۔ آج کل سے بنی تصاویر اصلی تصاویر سے اس قدر مماثلت رکھتی ہیں کہ عام صارف کے لیے حقیقت اور بناوٹ میں فرق کرنا مشکل ہو گیا ہے۔ گوگل کی اس ٹیکنالوجی سے تصویر کی تاریخ کو ڈیجیٹل فائل میں محفوظ کر دیا جائے گا، جس سے کسی بھی ترمیم شدہ تصویر کو اصلی ظاہر کرنا پہلے سے زیادہ مشکل ہوگا۔
صارفین کے لیے یہ تبدیلی نمایاں نہیں ہوگی۔ تصویر کے اوپر کوئی بڑا واٹر مارک نظر نہیں آئے گا، بلکہ یہ ڈیٹا فائل کے کوڈ میں چھپا رہے گا۔ اگر آپ کوئی ایسی ایپ استعمال کرتے ہیں جو C2PA اسٹینڈرڈ کو سپورٹ کرتی ہے، تو آپ کو تصویر کی تفصیلات میں معلوم ہو جائے گا کہ اس میں کیا تبدیلیاں کی گئی ہیں۔
گوگل کا یہ فیصلہ ڈیجیٹل میڈیا میں شفافیت لانے کے عالمی رجحان کا حصہ ہے۔ ایڈوب، مائیکروسافٹ اور اوپن اے آئی پہلے ہی اس معیار کو اپنا چکے ہیں، لیکن گوگل کا اسے اپنے ڈیفالٹ میسجنگ ایپ میں شامل کرنا اس بات کی علامت ہے کہ مستقبل میں تصاویر کی تصدیق ایک عام ضرورت بن جائے گی۔
یہ فیچر ابھی محدود ڈیوائسز اور بیٹا ٹیسٹرز کے لیے دستیاب ہے، جبکہ اس کا وسیع تر اطلاق آنے والے مہینوں میں متوقع ہے۔ تاہم، یہ نظام اس مفروضے پر کام کرتا ہے کہ صارف شیئر کرنے سے پہلے میٹا ڈیٹا کو ختم نہیں کرے گا۔
فی الحال، آپ کا فون اب اس بات پر نظر رکھے گا کہ تصویر حقیقت ہے یا الگورتھم کی مدد سے تیار کردہ ایک "بہتر” ورژن۔
