صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے سندھ بھر میں گرد آلود طوفان اور گرج چمک کے ساتھ بارش کا الرٹ جاری کر دیا ہے۔ محکمہ موسمیات کی پیش گوئی کے مطابق، موسم کا یہ نیا سلسلہ وسطِ ہفتہ سے صوبے کے بالائی اور وسطی اضلاع کو متاثر کرے گا، جس کے بعد اس کا رخ ساحلی علاقوں کی جانب ہوگا۔
اتھارٹی نے تمام ضلعی انتظامیہ کو ہنگامی بنیادوں پر الرٹ رہنے اور حساس مقامات پر ریسکیو ٹیمیں تعینات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ 50 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلنے والی تیز ہواؤں کے باعث کمزور انفراسٹرکچر، سائن بورڈز اور کھڑی فصلوں کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔
اندرونِ سندھ کے کسانوں میں تشویش پائی جاتی ہے۔ گندم کی فصل تیار کھڑی ہے اور گزشتہ برسوں کے دوران ایسی ہی موسمی صورتحال کے باعث کسانوں کو بھاری مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
پی ڈی ایم اے کے ترجمان نے منگل کو جاری بیان میں کہا کہ "ہم صورتحال کی 24 گھنٹے نگرانی کر رہے ہیں۔ ہماری اولین ترجیح شہری مراکز میں نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنا ہے تاکہ گزشتہ مون سون جیسی صورتحال سے بچا جا سکے۔”
کراچی کے حوالے سے پیش گوئی ذرا مختلف ہے۔ تازہ ترین ماڈلز کے مطابق، بارش کا زیادہ تر زور لاڑکانہ، سکھر اور جیکب آباد کے اضلاع پر ہوگا۔ تاہم، ساحلی ہواؤں کے رخ میں تبدیلی سے درجہ حرارت میں اچانک کمی کا امکان ہے، جو شہر کے گنجان آباد علاقوں میں سانس کی بیماریوں کا سبب بن سکتی ہے۔
متاثرہ علاقوں کے ہسپتالوں کو ہنگامی حالت میں رہنے کی ہدایت کر دی گئی ہے۔ پی ڈی ایم اے نے شہریوں کو مشورہ دیا ہے کہ تیز ہواؤں کے دوران غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور گھروں کی چھتوں پر موجود ہلکی اشیاء کو محفوظ بنائیں۔
موسم کا یہ سلسلہ کم از کم 48 گھنٹے تک برقرار رہنے کا امکان ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ انتظامیہ کی جانب سے جاری کردہ یہ پیشگی انتباہ زمینی حقائق پر کتنا مؤثر ثابت ہوتا ہے۔
