سائنسدانوں نے ایک ایسا جدید روبوٹک سینسنگ پلیٹ فارم تیار کر لیا ہے جو بیکٹیریل انفیکشن کی تشخیص دنوں کے بجائے منٹوں میں کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ نظام مائیکرو فلوئیڈک ٹیکنالوجی اور خودکار مشین لرننگ کے امتزاج سے کام کرتا ہے، جس سے لیبارٹری میں کلچر بنانے کا روایتی اور سست عمل ختم ہو گیا ہے۔
سیپسس یا نمونیا جیسے سنگین انفیکشنز کے لیے موجودہ طبی معیارات اب بھی پیٹری ڈش کلچر پر انحصار کرتے ہیں۔ اس عمل میں اکثر 48 سے 72 گھنٹے لگ جاتے ہیں۔ اس دوران ڈاکٹرز کو مریض کی جان بچانے کے لیے اندھا دھند اینٹی بائیوٹکس دینی پڑتی ہیں، جس سے نہ صرف علاج غیر مؤثر ہوتا ہے بلکہ اینٹی بائیوٹک کے خلاف مزاحمت کا عالمی بحران بھی شدت اختیار کر رہا ہے۔
نیا پلیٹ فارم ایک خصوصی چپ پر بیکٹیریا کو قید کر کے کام کرتا ہے۔ جیسے ہی بیکٹیریا چپ پر آتے ہیں، نظام ان کے سائز، شکل اور روشنی کے انعکاس کی خصوصیات کا تجزیہ کرتا ہے، بجائے اس کے کہ ان کی افزائش کا انتظار کیا جائے۔ ایک مربوط مصنوعی ذہانت کا الگورتھم ان ڈیٹا پوائنٹس کا موازنہ معروف پیتھوجینز کے ڈیٹا بیس سے کرتا ہے اور درست نام بتا دیتا ہے۔
منصوبے سے وابستہ ایک محقق کا کہنا ہے کہ "جدید طب میں سب سے بڑی رکاوٹ یہ وقت ہے جو ہمیں یہ جاننے میں لگتا ہے کہ ہم کس دشمن سے لڑ رہے ہیں۔” اس تشخیص کو ایک گھنٹے سے کم وقت میں لا کر، ٹیم کا مقصد ڈاکٹروں کو فوری طور پر درست اینٹی بائیوٹک تجویز کرنے کے قابل بنانا ہے۔
یہ ٹیکنالوجی فی الحال کلینیکل ٹرائلز کے مرحلے میں ہے تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ یہ انسانی خون اور ٹشوز کے پیچیدہ نمونوں میں بھی درست کام کر سکے۔ اگر یہ تجربات کامیاب رہتے ہیں تو ہسپتالوں میں متعدی امراض کے پھیلاؤ کو روکنے کا طریقہ کار مکمل طور پر بدل سکتا ہے۔
ابھی اس نظام کو مزید چھوٹا کرنے اور عام ہسپتالوں تک پہنچانے میں انجینئرنگ کی کچھ رکاوٹیں موجود ہیں۔ تاہم، تشخیص کی یہ رفتار طبی دنیا میں ایک اہم پیش رفت ہے۔ سیپسس کے شکار مریض کے لیے وہ 48 گھنٹے جو اب تک ضائع ہوتے تھے، زندگی اور موت کا فرق ثابت ہو سکتے ہیں۔
