اسلام آباد — وفاقی حکومت نے جمعہ کے روز مالی سال 2025-26 کے لیے صوبوں، بلدیاتی اداروں اور سرکاری کمپنیوں کو دیے جانے والے ترقیاتی قرضوں اور ایڈوانسز پر مارک اپ (شرحِ سود) میں 5.85 فیصد کی بڑی کمی کر دی ہے۔ وزارتِ خزانہ کے نوٹیفکیشن کے مطابق، نئے مالی سال کے لیے سود کی شرح 11.89 فیصد مقرر کی گئی ہے، جو گزشتہ مالی سال میں 17.74 فیصد اور اس سے پچھلے سال 17.84 فیصد تھی۔ شرحِ سود میں یہ بڑی کمی اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے بنیادی پالیسی ریٹ میں 22 فیصد سے 11.5 فیصد تک آنے والی گراوٹ کے باعث ممکن ہوئی۔ اس کے علاوہ، وزارتِ خزانہ نے واضح کیا ہے کہ ہاؤس بلڈنگ اور گاڑیوں کی خریداری کے لیے سرکاری ملازمین کو دیے جانے والے قرضوں پر بھی یہی 11.89 فیصد شرحِ سود لاگو ہوگی۔
اگرچہ اس سال شرحِ سود میں کمی کی گئی ہے، لیکن یہ اب بھی مالی سال 2020-21 کے 10.30 فیصد کے مقابلے میں 15.4 فیصد زیادہ ہے۔ مالی سال 2016-17 سے اب تک ترقیاتی قرضوں پر وصول کیے جانے والے سود میں مجموعی طور پر 175 فیصد کا ریکارڈ اضافہ ہوا ہے، جس کے بعد یہ وفاقی حکومت کی آمدنی کا ایک بڑا ذریعہ بن چکا ہے۔ وفاق عام طور پر بین الاقوامی اداروں سے محض 2 فیصد کے قریب سستے نرخوں پر غیر ملکی قرضے حاصل کرتا ہے اور انہیں صوبوں اور دیگر اداروں کو بھاری مارک اپ پر منتقل (آن لینڈ) کرتا ہے۔ اس سود کی بدولت وفاقی حکومت نے مالی سال 2025-26 میں 164 ارب روپے کمائے، جبکہ اس سے پچھلے مالی سال 2024-25 میں صوبوں اور سرکاری اداروں سے سود کی مد میں ریکارڈ 245 ارب روپے وصول کیے گئے تھے۔
