اسلام آباد — وفاقی ٹیکس محتسب ظفر حجازی نے وفاقی محکمہ آمدنی کے سیلز ٹیکس ریفنڈ کے خودکار نظام میں ایک بڑی تکنیکی خرابی کی نشاندہی کرتے ہوئے ٹیکس حکام کو فوری طور پر اسے دور کرنے کی ہدایت کی ہے۔ یہ احکامات کراچی سے تعلق رکھنے والے ایک برآمد کنندہ کی جانب سے دائر کردہ شکایات پر جاری کیے گئے۔ ٹیکس محتسب نے خبردار کیا کہ یہ خرابی برآمدی شعبے کو بری طرح متاثر کر رہی ہے اور خودکار ریفنڈز کے پورے نظام کو نقصان پہنچا رہی ہے۔
وفاقی محتسب کے مطابق، خودکار سسٹم تجارتی برآمدات کے لیے جمع کرائے جانے والے مال کے اندراج کے فارم اور کورئیر سروسز کے ذریعے بھیجے جانے والے غیر تجارتی نمونہ جات کے فارم میں فرق کرنے سے قاصر ہے۔ چونکہ نمونوں کے عوض بیرونِ ملک سے رقم کی وصولی لازمی نہیں ہوتی، اس لیے سسٹم خودکار طور پر ‘رقم موصول نہیں ہوئی’ کا اعتراض اٹھا دیتا ہے۔ اس غلطی کے نتیجے میں قانون کے مطابق صرف مخصوص رقم روکنے کے بجائے، برآمد کنندہ کا پورا سیلز ٹیکس ریفنڈ کلیم دستی پروسیسنگ کی طرف منتقل ہو جاتا ہے۔ کیس کی سماعت کے دوران وفاقی ادارے کے کمپیوٹرائزڈ امدادی ادارے نے بتایا کہ وہ کسٹمز سے ڈیٹا خودکار طریقے سے حاصل کرتا ہے اور اسے تبدیل کرنے کا مجاز نہیں ہے۔ محتسب نے اسے ایک ‘خطرناک خامی’ قرار دیتے ہوئے متعلقہ محکمے کے ان لینڈ ریونیو اور کسٹمز ونگز کو مل کر اس تکنیکی مسئلے کو فوری حل کرنے کا حکم دیا ہے۔
