اسلام آباد — وفاقی حکومت نے جمعہ کے روز پٹرول کی قیمت میں 3.66 روپے اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 4.80 روپے فی لیٹر اضافے کا اعلان کیا ہے، جس کا مقصد خلیجِ فارس میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں ہونے والے اتار چڑھاؤ کا اثر مقامی صارفین تک منتقل کرنا ہے۔ اس حالیہ اضافے کے بعد، پٹرول کی نئی قیمت 335.18 روپے فی لیٹر جبکہ ڈیزل کی قیمت 383.46 روپے فی لیٹر ہو گئی ہے۔ متعلقہ محکمے کے نوٹیفکیشن کے مطابق نئی قیمتوں کا اطلاق 25 جولائی (ہفتہ) سے ہو گیا ہے۔ اس وقت حکومت پٹرول پر فی لیٹر مجموعی طور پر 110 روپے اور ڈیزل پر 96 روپے ٹیکس اور ڈیوٹیز کی مد میں وصول کر رہی ہے۔
اگرچہ قیمتوں میں حالیہ اضافہ ہوا ہے، تاہم یہ نرخ 3 اپریل کو ریکارڈ کی گئی بلند ترین سطح (ڈیزل 520.35 روپے اور پٹرول 458.41 روپے) سے اب بھی نمایاں طور پر کم ہیں، جو فروری کے آخر میں امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ چھڑنے کے بعد اوپر گئے تھے۔ اس غیر یقینی صورتحال سے نمٹنے کے لیے وفاقی وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک نے ایک بڑے پالیسی فیصلے کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ وزیرِ اعظم اور وفاقی کابینہ نے آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی کو پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں ہفتہ وار کے بجائے اب روزانہ کی بنیاد پر عالمی مارکیٹ کے مطابق مقرر کرنے کا اختیار دے دیا ہے۔ دوسری طرف، آل پاکستان ڈیلرز ایسوسی ایشن نے قیمتوں کے اس روزانہ کے طریقہ کار کو مسترد کرتے ہوئے رواں ہفتے احتجاجی لائحہ عمل تیار کرنے کی دھمکی دی ہے۔
