کراچی — گندم درآمد کرنے والے نجی شعبے نے حکومت کی جانب سے نجی امپورٹرز کے بجائے سرکاری ادارے ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان کے ذریعے گندم منگوانے کی تجویز پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ سیرل ایسوسی ایشن آف پاکستان کے چیئرمین مزمل چپل نے اس ممکنہ اقدام کی سخت مخالفت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ سرکاری سطح پر گندم کی درآمد سے قومی خزانے کو اربوں روپے کا نقصان پہنچ سکتا ہے اور ملک میں گندم کی ڈی ریگولیشن پالیسی متاثر ہوگی۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ نجی شعبے کو بغیر کسی سرکاری سبسڈی کے پہلے مرحلے میں 20 لاکھ ٹن اور دوسرے مرحلے میں مزید 20 لاکھ ٹن گندم درآمد کرنے کی اجازت دی جائے، کیونکہ مارکیٹ کے مطابق نجی امپورٹ سے قومی خزانے پر کوئی بوجھ نہیں پڑتا۔
ایسوسی ایشن کے مطابق، نجی شعبے نے مالی سال 2024 میں کسی بھی حکومتی امداد کے بغیر 27 لاکھ ٹن گندم امپورٹ کر کے ملک میں آٹے کی قیمت 123 روپے سے کم کر کے 95 روپے فی کلو پر لانے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ انہوں نے یاد دلایا کہ جولائی اور اگست کا مہینہ بحیرہ اسود اور جنوبی امریکہ میں گندم کی کٹائی کا سیزن ہے، جہاں اس وقت عالمی قیمتیں انتہائی مناسب ہیں۔ دوسری جانب، صوبائی سطح پر قیمتوں کو کنٹرول کرنے کے لیے وزیرِ خوراک سندھ مخدوم محبوب الزماں کی صدارت میں فلور ملز ایسوسی ایشن کا ایک اہم اجلاس ہوا، جس میں انہوں نے ذخیرہ اندوزوں کے خلاف کارروائیاں تیز کرنے کی ہدایت کی۔ وزیرِ خوراک نے بتایا کہ اس وقت محکمہ خوراک کے پاس 4 لاکھ 46 ہزار ٹن سے زائد گندم کا اسٹاک موجود ہے اور صوبے کے اندر ایک سے دوسرے ضلع میں گندم کی نقل و حمل پر کوئی پابندی نہیں ہے
