اسلام آباد — پاکستان کسٹمز نے موبائل فونز کی درآمدات کے حوالے سے میڈیا پر چلنے والی خبروں کی تردید کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ رپورٹوں میں تیار موبائل فونز کی درآمد کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا اور مقامی طور پر اسمبل ہونے والے پرزوں اور تیار فونز کے فرق کو نظر انداز کیا گیا۔ کسٹمز کے مطابق، مالی سال 2025–26 کے دوران ملک میں تقریباً 3 کروڑ 20 لاکھ موبائل فون درآمد کیے گئے، جو گزشتہ مالی سال کے 3 کروڑ 30 لاکھ کی نسبت تقریباً برابر ہی ہیں۔ اگرچہ موبائل فون درآمدات کی کل مالیت گزشتہ سال کے 427 ارب روپے سے بڑھ کر 520 ارب روپے تک پہنچ گئی ہے، تاہم اس رقم کا تقریباً 80 فیصد حصہ یعنی 420 ارب روپے مقامی کارخانوں میں فون تیار کرنے کے لیے درآمد کیے گئے پرزوں (CKD/SKD) پر مشتمل ہے۔ مارکیٹ میں فروخت کے لیے تیار حالت میں درآمد کیے گئے فونز (CBU) کی مالیت صرف 100 ارب روپے ہے، لہٰذا پورے 520 ارب روپے کو تیار فونز کی درآمد قرار دینا حقیقت کے برعکس ہے۔
کسٹمز کے اعداد و شمار کے مطابق، تیار اسمارٹ فونز کی درآمد مالی سال 2024–25 میں 2 لاکھ 90 ہزار یونٹس سے بڑھ کر مالی سال 2025–26 میں 10 لاکھ 40 ہزار یونٹس ہو گئی۔ صنعتی ذرائع کے مطابق اس اضافے میں 60 سے 70 فیصد حصہ ایپل آئی فون اور گوگل پکسل کا ہے، اور چونکہ یہ برانڈز پاکستان میں اسمبل نہیں ہوتے، اس لیے ان کی درآمد مقامی صنعت کو متاثر نہیں کرتی۔ اس کے علاوہ قانونی کمرشل چینلز کے ذریعے آئی فون لانے پر ٹیکسز تقریباً 1 لاکھ 50 ہزار روپے ہیں، جبکہ پاسپورٹ پر رجسٹریشن کے لیے 1 لاکھ 90 ہزار اور شناختی کارڈ پر تقریباً 2 لاکھ 10 ہزار روپے ٹیکس لاگو ہوتا ہے۔ اسمگلنگ کے خلاف سخت کارروائی، بہتر کلیئرنس اور پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (PTA) کے ساتھ مضبوط تعاون کی بدولت موبائل درآمدات پر جمع ہونے والی ڈیوٹی 36 فیصد سے زائد اضافے کے ساتھ 121 ارب روپے تک پہنچ گئی ہے، جس سے نہ صرف سرکاری ریونیو میں اضافہ ہوا ہے بلکہ مقامی اسمبلنگ انڈسٹری کو بھی تحفظ ملا ہے۔
