پاور ڈویژن نے ملک بھر کی بجلی تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز) کو ہدایت کی ہے کہ نیٹ میٹرنگ کی زیر التوا تمام درخواستیں 15 دن کے اندر نمٹائی جائیں۔ یہ فیصلہ نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) کی جانب سے ڈسکوز کی سستی اور ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر سخت سرزنش کے بعد سامنے آیا ہے۔
بجلی کے صارفین طویل عرصے سے نیٹ میٹرنگ کے حصول میں حائل رکاوٹوں کی شکایت کر رہے تھے۔ کئی صارفین کو محض انسپیکشن یا دستاویزات کی تصدیق کے لیے مہینوں انتظار کرنا پڑا، جس سے یہ تاثر عام ہوا کہ تقسیم کار کمپنیاں جان بوجھ کر شمسی توانائی کی طرف منتقلی کو روک رہی ہیں تاکہ روایتی بجلی کی کھپت برقرار رہے۔
وزارت توانائی کے ایک اعلیٰ افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ نیپرا نے واضح کر دیا تھا کہ مزید تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ڈسکوز کو ڈیڈ لائن دے دی گئی ہے، اور اب کسی بھی قسم کی غیر ضروری تاخیر کو پیشہ ورانہ غفلت تصور کیا جائے گا۔
نئی ہدایات کے تحت، اگر کوئی ڈسکوز کسی صارف کی درخواست مسترد کرتی ہے، تو اسے تحریری طور پر ٹھوس تکنیکی وجہ بتانا ہوگی۔ اب مبہم یا روایتی بہانے نہیں چلیں گے۔
تاہم، اس حکمنامے کے بعد بھی تکنیکی چیلنجز اپنی جگہ موجود ہیں۔ شہری علاقوں میں گرڈ کا نظام شمسی توانائی کے اچانک اضافے کو سنبھالنے کے لیے تیار نہیں ہے۔ ڈسکوز کا مؤقف رہا ہے کہ گرڈ میں ریورس پاور فلو (بجلی کی واپسی) کا انتظام کرنا ایک پیچیدہ تکنیکی عمل ہے، لیکن نیپرا کا ماننا ہے کہ یہ محض انجینئرنگ کے مسائل ہیں جنہیں درست کیا جا سکتا ہے، نہ کہ صارفین کے حقوق سلب کرنے کا جواز۔
اگلے پندرہ دن یہ واضح کر دیں گے کہ کیا ڈسکوز—جو ماضی میں تبدیلی کے خلاف مزاحمت کے لیے جانی جاتی ہیں—اس ہدف کو پورا کر پاتی ہیں یا نہیں۔ اگر ڈیڈ لائن کے بعد بھی درخواستیں التوا کا شکار رہیں، تو نیپرا نے تقسیم کار کمپنیوں پر براہِ راست جرمانے عائد کرنے کا عندیہ دیا ہے۔
