کیرونا، سویڈن — جرمنی کی نجی خلائی کمپنی ‘آئسار ایرو اسپیس’ نے اپنے راکٹ ‘اسپیکٹرم’ کو کامیابی کے ساتھ زمین کے مدار میں پہنچا کر یورپی خلائی صنعت میں ایک نئی تاریخ رقم کر دی ہے۔ سویڈن کے ایسرینج اسپیس سینٹر سے لانچ ہونے والا یہ راکٹ یورپ کے لیے ایک اہم سنگ میل ہے، کیونکہ اس نے طویل عرصے سے قائم سرکاری خلائی پروگراموں کی اجارہ داری کو چیلنج کر دیا ہے۔
یورپ اب تک اپنے خلائی مشنز کے لیے ‘اریان’ جیسے سرکاری پروگراموں کا محتاج رہا ہے۔ یہ ہیوی لفٹ راکٹس اپنی جگہ مستند سہی، مگر ان کی لاگت بہت زیادہ ہے اور شیڈول کئی سال پہلے ہی بک ہو جاتے ہیں۔ اسی وجہ سے چھوٹی سیٹلائٹس بنانے والی یورپی کمپنیوں کو اکثر اپنے پے لوڈ لانچ کروانے کے لیے امریکہ یا نیوزی لینڈ کا رخ کرنا پڑتا تھا۔
میونخ میں قائم اس کمپنی کا یہ کامیاب تجربہ محض ایک ٹیکنیکل کامیابی نہیں، بلکہ یورپی خلائی معیشت کے لیے ایک نئی راہ ہے۔ پروجیکٹ سے وابستہ ایک سینئر انجینئر کا کہنا ہے کہ "ہم صرف ایک راکٹ خلا میں نہیں بھیج رہے، بلکہ ہم یورپ کے لیے ایسی سہولت پیدا کر رہے ہیں جسے اب کسی سرکاری حکم نامے کا انتظار نہیں کرنا پڑے گا۔”
اس مشن کی کامیابی نے سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کیا ہے۔ گزشتہ چند سالوں میں یورپی ‘نیو اسپیس’ اسٹارٹ اپس میں کروڑوں یورو کی سرمایہ کاری کی گئی ہے، لیکن اب تک یہ سب کچھ صرف کاغذوں تک محدود تھا۔ اب جبکہ ایک نجی راکٹ مدار تک پہنچ چکا ہے، تو یورپی سیٹلائٹ مینوفیکچررز کے پاس اپنے ہی براعظم میں لانچنگ کا ایک سستا اور قابلِ اعتماد متبادل موجود ہے۔
اسپیکٹرم راکٹ کو خاص طور پر چھوٹی سیٹلائٹس کی تیز رفتار لانچنگ کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ کمپنی کا ہدف ہے کہ مستقبل میں ہر دو ہفتے بعد ایک لانچ کی جا سکے۔ اگرچہ جرمنی کی ہی دوسری کمپنیاں جیسے ‘راکٹ فیکٹری آگسبرگ’ بھی اس دوڑ میں شامل ہیں، لیکن آئسار ایرو اسپیس نے اپنی اس کامیابی سے مارکیٹ میں سبقت حاصل کر لی ہے۔
یورپ کے لیے اب خلا کا راستہ کسی سرکاری بیوروکریسی کا محتاج نہیں رہا۔ یہ لانچ اس بات کا ثبوت ہے کہ اگر نجی شعبے کو موقع ملے تو وہ طویل عرصے سے جاری خلائی تعطل کو توڑ سکتا ہے۔ اب سوال یہ نہیں کہ کیا نجی کمپنیاں خلا میں جا سکتی ہیں، بلکہ یہ ہے کہ وہ کتنی تیزی سے اس بازار پر قبضہ جما سکتی ہیں۔
