اسلام آباد: پارلیمانی کمیٹی نے متنازع ٹیلی کمیونیکیشن بل پر غور مؤخر کرتے ہوئے اس کی بعض شقوں پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ اراکین نے مؤقف اختیار کیا کہ بل کی بعض تجاویز ٹیلی کام کمپنیوں کو غیر معمولی فوائد فراہم کرتی ہیں اور عوامی مفادات کے خلاف جا سکتی ہیں۔
سب سے زیادہ تنقید اس شق پر کی گئی جس کے تحت ٹیلی کام کمپنیوں کو سرکاری یا عوامی زمین استعمال کرنے کی اجازت بغیر کسی فیس کے دی جانی تھی۔ قانون سازوں نے اس تجویز کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ عوامی اثاثوں کے استعمال کے بدلے مناسب معاوضہ وصول کیا جانا چاہیے۔
کمیٹی اراکین کا کہنا تھا کہ اگرچہ ملک میں ٹیلی کام انفراسٹرکچر اور انٹرنیٹ سہولیات کی توسیع ضروری ہے، لیکن اس مقصد کے لیے سرکاری وسائل کو بلا معاوضہ نجی کمپنیوں کے حوالے نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے شفافیت اور احتساب کو یقینی بنانے پر زور دیا۔
ٹیلی کام صنعت کے نمائندوں کا مؤقف تھا کہ اخراجات میں کمی اور قواعد و ضوابط میں آسانی سے نیٹ ورک کی توسیع اور ڈیجیٹل رابطوں میں بہتری آ سکتی ہے، تاہم کمیٹی نے اس دلیل کو تسلیم نہیں کیا اور متعلقہ شق کو مسترد کر دیا۔
مزید برآں، کمیٹی نے بل کی دیگر دفعات پر بھی تحفظات ظاہر کیے اور تمام اسٹیک ہولڈرز سے مزید مشاورت تک بل کو مؤخر کرنے کا فیصلہ کیا۔
