اسلام آباد کے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) میں منگل کی صبح ایئر کنڈیشننگ سسٹم میں دھماکے کے بعد لگنے والی آگ نے نوزائیدہ بچوں کے انتہائی نگہداشت کے وارڈ کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ اس افسوسناک حادثے میں 14 بچے جھلس کر اور دم گھٹنے سے جاں بحق ہو گئے۔ آگ اتنی تیزی سے پھیلی کہ انکیوبیٹرز میں موجود بچوں کو نکالنے کا موقع ہی نہ مل سکا۔
واقعے کے چند گھنٹوں بعد ہسپتال پہنچنے والے مصطفیٰ کمال نے اسے "قومی سانحہ” قرار دیا۔ انہوں نے ہسپتال کی انتظامیہ پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ عملے کی جانب سے گزشتہ کئی ماہ سے بجلی کے نظام میں خرابیوں کی شکایات کی جا رہی تھیں، لیکن ان پر کان نہیں دھرے گئے۔ انہوں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ "یہ صرف حادثہ نہیں، بلکہ ان معصوموں کی جانیں انتظامی غفلت کی بھینٹ چڑھی ہیں۔”
ہسپتال ذرائع کے مطابق آگ کا آغاز ایک اے سی یونٹ میں شارٹ سرکٹ سے ہوا، جس نے آکسیجن کی فراہمی والے نظام تک پہنچ کر شدت اختیار کر لی۔ وارڈ میں آکسیجن کی موجودگی کے باعث آگ نے منٹوں میں خوفناک شکل اختیار کر لی۔ ہنگامی صورتحال کے باوجود امدادی ٹیمیں متاثرہ بچوں تک بروقت نہیں پہنچ سکیں کیونکہ دھوئیں کے بادلوں نے پورے وارڈ کو ڈھانپ لیا تھا۔
اس وقت پمز ہسپتال کا صحن غمزدہ والدین کی چیخ و پکار سے گونج رہا ہے۔ کئی خاندان دور دراز علاقوں سے اپنے بچوں کو بہتر علاج کی امید لے کر یہاں پہنچے تھے، مگر انہیں یہ صدمہ اٹھانا پڑا۔ ہسپتال کے باہر موجود والدین انصاف کے منتظر ہیں اور انتظامیہ کی نااہلی پر سراپا احتجاج ہیں۔
صحت کے حکام نے واقعے کی تحقیقات کے لیے ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دینے کا اعلان کیا ہے جو ہسپتال کے مینٹیننس ریکارڈ کا جائزہ لے گی۔ ابتدائی اطلاعات بتاتی ہیں کہ جس اے سی یونٹ میں دھماکا ہوا، اس کی مرمت کے لیے گزشتہ تین ماہ میں دو بار درخواست دی گئی تھی، تاہم تکنیکی عملے نے اسے نظر انداز کر دیا۔
حکومت نے متاثرہ خاندانوں کے لیے معاوضے کا اعلان تو کر دیا ہے، لیکن لواحقین کا کہنا ہے کہ انہیں پیسوں سے زیادہ ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی درکار ہے۔ مصطفیٰ کمال نے واضح کیا کہ "ہمیں ایسی کمیٹیوں کی ضرورت نہیں جو صرف کاغذوں پر رپورٹیں تیار کریں، بلکہ ان لوگوں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے جنہوں نے مرمت کی درخواستوں کو نظر انداز کیا۔”
فی الحال ہسپتال کا یہ حصہ فارنزک جانچ کے لیے سیل کر دیا گیا ہے۔ وارڈ میں موجود دیگر بچے ٹراما سینٹر میں زیرِ علاج ہیں، جن میں سے کئی کی حالت اب بھی تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔
