حکومت نے پٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ کر دیا ہے۔ اوگرا کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے بعد پٹرول 2 روپے 7 پیسے اور ہائی اسپیڈ ڈیزل 2 روپے 99 پیسے فی لیٹر مہنگا ہو گیا ہے۔ نئی قیمتوں کا اطلاق فوری طور پر ہو چکا ہے۔
یہ اضافہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب ملک میں پہلے ہی مہنگائی کی شرح نے عام آدمی کی قوت خرید کو بری طرح متاثر کر رکھا ہے۔ ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کا براہِ راست اثر ٹرانسپورٹ کے کرایوں اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر پڑتا ہے۔
حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے باعث یہ ایڈجسٹمنٹ ناگزیر تھی۔ پیٹرولیم ڈویژن کے ایک افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ "عالمی سطح پر سپلائی چین کے مسائل اور مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال نے درآمدی لاگت کو بڑھا دیا ہے، جس کا بوجھ منتقل کرنا مجبوری ہے۔”
دوسری جانب معاشی ماہرین کا ماننا ہے کہ حکومت پیٹرولیم مصنوعات پر عائد لیویز اور ٹیکسوں کے ذریعے اپنے مالیاتی اہداف پورے کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ عالمی منڈی میں قیمتیں کم ہوں یا زیادہ، مقامی سطح پر ٹیکسوں کی بھرمار صارف کو ریلیف ملنے نہیں دیتی۔
اس اضافے کے بعد ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشنز نے بھی تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ڈیزل کی قیمت بڑھنے سے مال بردار گاڑیوں اور بسوں کے کرایوں میں اضافے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے، جس کا حتمی نتیجہ سبزیوں اور دیگر اشیا کی قیمتوں میں اضافے کی صورت میں نکلے گا۔
حکومت کا یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب آئی ایم ایف کے ساتھ طے پانے والے معاہدوں کی پاسداری کے لیے محصولات بڑھانا ایک بڑی شرط ہے۔ عوام کے لیے یہ اضافہ صرف پٹرول پمپ پر ادا کی جانے والی اضافی رقم نہیں، بلکہ مہنگائی کے ایک نئے سلسلے کا پیش خیمہ ہے۔
