کراچی کے علاقے کلفٹن میں ایک غیر ملکی خاتون کے ساتھ زیادتی کی کوشش کرنے والے ملزم کو پولیس نے گرفتار کر لیا ہے۔ منگل کی شب پیش آنے والا یہ واقعہ شہر میں مقیم غیر ملکیوں کی سیکیورٹی پر سوالیہ نشان بن گیا ہے۔
بوٹ بیسن تھانے کے حکام نے بدھ کی صبح گرفتاری کی تصدیق کی۔ ابتدائی تفتیش کے مطابق ملزم نے رہائشی بلاک کے قریب خاتون کو اکیلا پا کر ہراساں کیا اور اسے زبردستی قریبی ویران جگہ لے جانے کی کوشش کی۔
تحقیقات سے وابستہ ایک اعلیٰ پولیس افسر نے بتایا کہ "ملزم ہماری حراست میں ہے اور واقعے کے فرانزک شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں۔” قانونی کارروائی جاری ہونے کے باعث انہوں نے ملزم کی شناخت ظاہر کرنے سے گریز کیا۔
متاثرہ خاتون — جن کی شہریت رازداری کی بنا پر ظاہر نہیں کی گئی — نے مزاحمت کی اور موقع سے بھاگ کر قریبی سیکیورٹی گارڈز سے مدد مانگی، جس کے بعد پولیس پٹرولنگ ٹیم نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے ملزم کو دھر لیا۔
یہ واقعہ کراچی میں غیر ملکیوں کو درپیش سیکیورٹی چیلنجز کی عکاسی کرتا ہے۔ اگرچہ گزشتہ تین برسوں میں شہر میں بڑی وارداتوں میں کمی آئی ہے، لیکن سٹریٹ کرائم اور ہراسانی کے واقعات اب بھی ایک بڑا خطرہ ہیں۔
شہری حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ انتظامیہ کی نگرانی کے نظام کی ناکامی ہے۔ کلفٹن جیسے حساس علاقے میں سیکیورٹی کیمروں کا جال بچھا ہونے کے باوجود، ایسے واقعات کی روک تھام میں تسلسل کا فقدان ہے۔
انسانی حقوق کی وکیل سارہ خان کہتی ہیں کہ "سیکیورٹی صرف کیمروں کا نام نہیں ہے۔ اصل ضرورت پولیس کی ایسی موجودگی ہے جو مجرموں میں خوف پیدا کر سکے، بجائے اس کے کہ واردات کے بعد کارروائی کی جائے۔”
پولیس آج ملزم کو جوڈیشل مجسٹریٹ کی عدالت میں پیش کر کے جسمانی ریمانڈ حاصل کرے گی۔ تفتیشی ٹیمیں قریبی عمارتوں کی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی حاصل کر رہی ہیں تاکہ ملزم کے سابقہ مجرمانہ ریکارڈ کا پتہ لگایا جا سکے۔
حکام کا کہنا ہے کہ اس کیس کو ترجیحی بنیادوں پر نمٹایا جائے گا تاکہ چالان جلد عدالت میں پیش کیا جا سکے اور قانونی تاخیری حربوں سے بچا جا سکے۔
