فیس بک اور انسٹاگرام کی سروسز عالمی سطح پر معطل ہو گئی ہیں، جس کے باعث کروڑوں صارفین اپنے اکاؤنٹس تک رسائی سے محروم ہیں۔ خرابی کا سلسلہ آج صبح 10 بجے (جی ایم ٹی) کے بعد شروع ہوا، جس کے نتیجے میں صارفین فیڈ اپ ڈیٹ کرنے، نئی پوسٹس شیئر کرنے یا لاگ ان کرنے سے قاصر ہیں۔
آؤٹ ایج ٹریکنگ ویب سائٹ ‘ڈاؤن ڈیٹیکٹر’ کے مطابق شمالی امریکہ، یورپ اور ایشیا کے مختلف حصوں سے شکایات کا سیلاب امڈ آیا ہے۔ صارفین کو ‘سیشن ایکسپائرڈ’ کے پیغامات موصول ہو رہے ہیں یا پھر ایپلی کیشنز کھولنے پر خالی سکرین دکھائی دے رہی ہے۔
میٹا کی جانب سے تاحال اس تکنیکی خرابی کی وجوہات پر کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا۔ کمپنی کا یہ خاموش رویہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دنیا بھر کے چھوٹے تاجر اور مواد تخلیق کرنے والے اپنے کاروباری امور کے لیے مکمل طور پر ان پلیٹ فارمز پر انحصار کرتے ہیں۔
یہ تعطل میٹا کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔ کمپنی نے گزشتہ کچھ عرصے میں فیس بک، انسٹاگرام اور واٹس ایپ کے بیک اینڈ انفراسٹرکچر کو ایک دوسرے سے منسلک کیا ہے تاکہ اشتہارات اور ڈیٹا پروسیسنگ کو تیز کیا جا سکے۔ اس مربوط نظام کا فائدہ تو ہے، لیکن یہ ایک ‘سنگل پوائنٹ آف فیلیر’ کی صورتحال پیدا کرتا ہے، جہاں ایک سسٹم کی معمولی خرابی پورے نیٹ ورک کو مفلوج کر دیتی ہے۔
ماضی میں اسی نوعیت کے بڑے بریک ڈاؤنز کے پیچھے اکثر ڈومین نیم سسٹم کی غلط کنفیگریشن یا سرور سائیڈ اپ ڈیٹس میں نقائص کارفرما رہے ہیں۔ میٹا کے انجینئرز اس وقت سروس بحال کرنے کے لیے کوشاں ہیں، لیکن یہ واقعہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ڈیجیٹل دنیا کتنی تیزی سے ایک ہی کمپنی کے سرورز پر منحصر ہو چکی ہے۔
فی الحال پلیٹ فارمز کی فعالیت معطل ہے۔ یہ معاملہ محض سرور کا ایک چھوٹا سا تکنیکی مسئلہ ہے یا کسی گہری فنی خرابی کا نتیجہ، اس کا تعین ہونا باقی ہے۔ تاہم، اس تعطل سے میٹا کے اشتہاری نیٹ ورک پر براہِ راست اثر پڑ رہا ہے اور امپریشنز کی تعداد صفر تک گر چکی ہے۔
صارفین کے لیے فی الحال ‘ری فریش’ کا بٹن بے سود ثابت ہو رہا ہے اور جب تک میٹا اپنی حالیہ اپ ڈیٹ کو رول بیک نہیں کرتا یا سرور سائیڈ کی غلطی درست نہیں کرتا، ان پلیٹ فارمز پر خاموشی برقرار رہے گی۔
