ریاستی وزیر برائے داخلہ امور نے نیلے پاسپورٹ کے حصول کے لیے مجوزہ نرم پالیسی سے قدم پیچھے ہٹاتے ہوئے اب تمام درخواست دہندگان کے لیے سخت جانچ پڑتال کے نئے ضوابط کا اعلان کر دیا ہے۔
یہ فیصلہ گزشتہ ایک ہفتے سے جاری عوامی احتجاج اور قانون سازوں کی جانب سے شدید تنقید کے بعد سامنے آیا ہے۔ ناقدین کا موقف تھا کہ اصل منصوبہ — جس کے تحت سرکاری ٹھیکیداروں اور درمیانی درجے کے عہدیداروں کو پاسپورٹ تک رسائی دی جانی تھی — بدعنوانی کی راہ ہموار کرے گا اور دستاویز کے تقدس کو مجروح کرے گا۔
بدھ کو پریس بریفنگ کے دوران وزیر داخلہ نے کہا، "ہم نے عوامی آرا کو سنا ہے۔ سفری دستاویزات کا وقار ناقابلِ سمجھوتہ ہے۔ اب ہماری توجہ دائرہ کار بڑھانے کے بجائے تصدیقی پروٹوکولز کو سخت کرنے پر مرکوز ہے۔”
نئے ضوابط کے تحت، درخواست دہندگان کو اب اپنی ملازمت کی نوعیت کے مطابق سرکاری دوروں کی ٹھوس اور قابلِ تصدیق وجوہات فراہم کرنا ہوں گی۔ اس سے قبل، کسی بھی محکمے کے سربراہ کا سفارشی خط پاسپورٹ کے اجرا کے لیے کافی سمجھا جاتا تھا۔
وزارتِ داخلہ اب ہر فائل کی جانچ کے لیے ایک آزاد سیکیورٹی فرم کے ذریعے لازمی آڈٹ متعارف کرائے گی۔ یہ ایک ایسی اضافی جانچ ہے جو اس سے قبل ریاستی سطح کے عہدیداروں کے لیے موجود نہیں تھی۔
اگرچہ وزیر کا اصرار ہے کہ یہ اقدامات "حقیقی” سرکاری کاموں کے لیے عمل کو شفاف بنائیں گے، تاہم نچلے درجے کے سرکاری ملازمین کی نمائندہ یونینز نے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ان کا خدشہ ہے کہ یہ سخت شرائط بیوروکریٹک رکاوٹیں پیدا کریں گی، جس سے ان ملازمین کے لیے بین الاقوامی کانفرنسوں اور تربیتی پروگراموں میں شرکت مشکل ہو جائے گی۔
وزارت پیر تک نئے رہنما خطوط کو سرکاری گزٹ میں شائع کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ تب تک، نیلے پاسپورٹ کے لیے زیر التواء تمام درخواستوں پر عطل لگا دیا گیا ہے۔
وزیر کا یہ یو ٹرن ایک سیاسی بحران کو ٹالنے کی حکمت عملی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا یہ سخت ضوابط ناقدین کو مطمئن کر پائیں گے یا ریاستی مشینری کے لیے نئی مشکلات کا باعث بنیں گے۔
