کراچی: سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے انڈس ریور سسٹم اتھارٹی، ارسا، کی جانب سے سندھ کے پانی کے حصے میں مبینہ “غیر منصفانہ” کمی پر سخت تنقید کرتے ہوئے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ صوبے میں بڑھتے ہوئے پانی کے بحران کا فوری نوٹس لے۔
شرجیل میمن کے مطابق سندھ کو اس وقت 22 فیصد پانی کی کمی کا سامنا ہے، جبکہ گڈو بیراج پر یہ کمی 42 فیصد اور کوٹری بیراج پر 29 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اس صورتحال سے کاشت کار متاثر ہو رہے ہیں، پینے کے پانی کی فراہمی خطرے میں پڑ رہی ہے اور کراچی کے پہلے سے دباؤ کا شکار پانی کے نظام پر مزید بوجھ بڑھ رہا ہے۔
صوبائی وزیر نے ارسا پر الزام لگایا کہ سندھ کے اعتراضات کو نظر انداز کیا جا رہا ہے اور صوبے کے حصے میں “ایکوئلائزیشن” کے نام پر غیر منصفانہ کمی کی جا رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ غیر معمولی بارشوں کے باعث آنے والے اضافی پانی کو سندھ کے جائز حصے سے منہا نہیں کیا جانا چاہیے، کیونکہ صوبے کا حق 1991 کے آبی معاہدے کے تحت طے شدہ ہے۔
شرجیل میمن نے چشمہ جہلم اور تونسہ پنجند سمیت لنک کینالز کے ذریعے پانی کی مسلسل فراہمی پر بھی سوال اٹھایا۔ ان کے مطابق جب سندھ کے بیراج اور نہریں دباؤ کا شکار ہیں تو کسی ایک صوبے کو دوسرے پر ترجیح نہیں دی جانی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ اپنے آبی حقوق کا دفاع آئینی، قانونی اور جمہوری فورمز پر کرے گا۔
یہ تنازع ابتدائی خریف سیزن کے دوران سامنے آیا ہے، جس کے لیے ارسا پہلے ہی 15 فیصد پانی کی کمی کی منظوری دے چکی ہے، جبکہ خریف 2026 کے لیے سندھ کا متوقع پانی اخراج 30.403 ملین ایکڑ فٹ مقرر کیا گیا تھا۔
شرجیل میمن نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا کہ ارسا کے فیصلوں کا جائزہ لیا جائے اور 1991 کے آبی معاہدے پر مکمل عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ بحران اب صرف زراعت تک محدود نہیں رہا بلکہ شہری زندگی، صنعت اور مجموعی معیشت کو بھی متاثر کر رہا ہے۔
