اسلام آباد — پاکستان اور بنگلہ دیش نے منشیات کی بین الاقوامی سمگلنگ کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے ایک اہم سکیورٹی معاہدے پر دستخط کر دیے ہیں۔ یہ اقدام خطے میں منشیات کے پھیلاؤ کو روکنے اور سمگلرز کے نیٹ ورکس کو توڑنے کے لیے ایک بڑی پیش رفت ہے۔
بدھ کی شب طے پانے والا یہ مفاہمت نامہ دونوں ممالک کے انسدادِ منشیات کے اداروں کے درمیان برسوں سے موجود خلیج کو ختم کرے گا۔ انٹیلیجنس رپورٹس کے مطابق، افغانستان سے نکلنے والی منشیات کے لیے جنوبی ایشیائی ممالک کے سمندری اور زمینی راستے اہم گزرگاہ بنے ہوئے ہیں، جنہیں اب اس مشترکہ حکمت عملی سے بند کرنے کی کوشش کی جائے گی۔
معاہدے کا مقصد صرف سفارتی تعلقات بڑھانا نہیں بلکہ عملی اقدامات ہیں۔ اس کے تحت دونوں ممالک ریئل ٹائم انٹیلیجنس کا تبادلہ کریں گے، مشترکہ سمندری حدود میں گشت کو بڑھایا جائے گا، اور منشیات کے کاروبار سے حاصل ہونے والی غیر قانونی دولت کے سراغ لگانے کے لیے ایک ٹاسک فورس قائم کی جائے گی۔
انسدادِ منشیات کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ "ہم صرف معلومات کا تبادلہ نہیں کر رہے، بلکہ اپنی تکنیکی صلاحیتوں کو ایک دوسرے کے ساتھ جوڑ رہے ہیں۔ مجرم طویل عرصے سے ہمارے اداروں کے درمیان رابطے کی کمی کا فائدہ اٹھا رہے تھے۔ اب ایسا نہیں ہوگا۔”
اس معاہدے کی ضرورت اس وقت پیش آئی جب خلیج بنگال کے راستے میتھ ایمفیٹامائن اور ہیروئن کی بڑی کھیپیں پکڑی گئیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر دونوں ممالک نے اپنے وسائل کو یکجا نہ کیا، تو سمگلرز صرف ایک ملک سے دوسرے ملک کا رخ کرتے رہیں گے، جس سے منشیات کا خاتمہ ممکن نہیں ہوگا۔
تاہم، چیلنجز اب بھی موجود ہیں۔ معاہدے کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہے کہ دونوں ممالک کے مقامی ادارے کتنی دیانتداری سے اس پر عمل درآمد کرتے ہیں۔ ماضی میں سرحدی سکیورٹی پر تعینات اہلکاروں میں کرپشن اور بیوروکریٹک رکاوٹوں نے ایسے کئی اقدامات کو ناکام بنایا ہے۔
معاہدے میں چھ ماہ بعد کارکردگی کے جائزے کی شق بھی شامل کی گئی ہے۔ اگر منشیات کی سمگلنگ کے اعداد و شمار میں کمی نہ آئی، تو اسلام آباد اور ڈھاکا دونوں پر اس بات کا دباؤ ہوگا کہ وہ اس معاہدے کو محض ایک کاغذی کارروائی کے بجائے ٹھوس نتائج میں بدلیں۔
