مانسہرہ — کاغان ویلی کی سیر کے لیے آنے والے ایک خاندان کی گاڑی گڑھی حبیب اللہ کے قریب گہری کھائی میں جا گری، جس کے نتیجے میں گاڑی میں سوار چاروں افراد موقع پر ہی دم توڑ گئے۔
حادثہ منگل کے روز پیش آیا۔ مقامی پولیس کا کہنا ہے کہ گاڑی ایک تیز موڑ پر ڈرائیور کے قابو سے باہر ہو کر سینکڑوں فٹ نیچے کھائی میں جا گری۔ پہاڑی ڈھلوان انتہائی دشوار گزار تھی جس کی وجہ سے امدادی کارروائیوں میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
ریسکیو ٹیمیں ایک گھنٹے کے اندر جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں، لیکن کھائی کی گہرائی اور ڈھلوان کا زاویہ ایسا تھا کہ لاشوں کو نکالنے کے لیے رسیوں اور مقامی رضاکاروں کی مدد لینا پڑی۔ پولیس ترجمان کے مطابق، "یہ ایک مشکل آپریشن تھا۔ پہاڑی کا یہ حصہ تقریباً عمودی ہے، جس نے ریسکیو کے عمل کو سست کر دیا۔”
متاثرین کا تعلق راولپنڈی سے بتایا گیا ہے جو ناران کی جانب سفر کر رہے تھے۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق، بارش کے باعث سڑک پھسلن کا شکار تھی اور خدشہ ہے کہ گاڑی کا اسٹیئرنگ فیل ہونے یا ڈرائیور کے توازن کھو دینے سے یہ افسوسناک واقعہ پیش آیا۔ پولیس نے شناخت ظاہر نہیں کی تاکہ پہلے لواحقین کو مطلع کیا جا سکے۔
شمالی علاقہ جات میں سڑکوں کی خستہ حالی اور حفاظتی گرل کا نہ ہونا سیاحوں کے لیے مستقل خطرہ بنا ہوا ہے۔ مانسہرہ سے ناران تک کا راستہ کئی مقامات پر انتہائی تنگ اور خطرناک ہے، جہاں ذرا سی غفلت جان لیوا ثابت ہوتی ہے۔ حکومتی دعووں کے باوجود، سڑک کے کئی حصے اب بھی ایسے ہیں جہاں ڈرائیونگ مہارت کا امتحان لیتی ہے۔
لاشوں کو پوسٹ مارٹم کے لیے مقامی ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔ انتظامیہ اس بات کا تعین کر رہی ہے کہ آیا حادثہ مشینی خرابی کے باعث ہوا یا ڈرائیور کی تھکاوٹ اس کا سبب بنی۔
تفریحی سفر کا یہ المناک اختتام سیاحوں کے لیے ایک انتباہ ہے کہ پہاڑی علاقوں کی ان پرپیچ سڑکوں پر سفر کے دوران احتیاط کو ہر چیز پر مقدم رکھا جائے۔ فی الحال سڑک ٹریفک کے لیے کھلی ہے، لیکن مقامی حکام نے سیاحوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ خراب موسم اور دشوار راستوں پر گاڑی چلانے میں انتہائی احتیاط برتیں۔
