پاکستان بھر میں آج عید میلاد النبی ﷺ روایتی جوش و خروش اور مذہبی عقیدت کے ساتھ منائی جا رہی ہے۔ اس مبارک دن کی مناسبت سے ملک بھر میں عام تعطیل ہے۔
شہروں کی اہم شاہراہیں، سرکاری عمارتیں اور نجی رہائش گاہیں برقی قمقموں اور سبز پرچموں سے جگمگا رہی ہیں۔ کراچی، لاہور اور اسلام آباد سمیت ملک کے چھوٹے بڑے شہروں میں جلوس نکالے جا رہے ہیں، جہاں شرکاء درود و سلام کے نذرانے پیش کر رہے ہیں۔
ملک بھر میں سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔ وزارت داخلہ نے جلوسوں کے روٹس کی کڑی نگرانی کے لیے پولیس اور رینجرز کی بھاری نفری تعینات کی ہے۔ حساس علاقوں میں امن و امان برقرار رکھنے کے لیے موبائل فون سروس بھی جزوی طور پر معطل رکھی گئی ہے۔
دن کا آغاز وفاقی دارالحکومت میں 31 اور صوبائی دارالحکومتوں میں 21 توپوں کی سلامی سے ہوا۔ مساجد اور مراکز میں سیرت النبی ﷺ کانفرنسوں کا انعقاد کیا جا رہا ہے، جہاں علمائے کرام نبی کریم ﷺ کی حیات طیبہ، آپ ﷺ کے اسوہ حسنہ اور انسانیت کے لیے آپ ﷺ کے پیغام پر روشنی ڈال رہے ہیں۔
بہت سے مقامات پر مخیر حضرات کی جانب سے غریب بستیوں میں لنگر تقسیم کیا جا رہا ہے، جسے سیرتِ نبوی ﷺ کے عین مطابق انسانی خدمت کا ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔
ملک کو درپیش معاشی مشکلات کا اثر تقریبات کے حجم پر نمایاں ہے، تاہم مٹھائیوں اور سوغاتوں کی خریداری کے لیے بازاروں میں رش معمول کے مطابق ہے۔
صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے خصوصی پیغامات میں قوم پر زور دیا ہے کہ وہ اتحاد، رواداری اور سماجی انصاف کے اصولوں پر کاربند رہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملکی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ہمیں نبی کریم ﷺ کی تعلیمات کو مشعل راہ بنانا ہوگا۔
شام ڈھلتے ہی جلوسوں کا اختتام مرکزی مساجد اور درگاہوں پر خصوصی دعاؤں کے ساتھ ہوگا، جہاں ملک کی سلامتی اور امت مسلمہ کے اتحاد کے لیے خصوصی دعائیں کی جائیں گی۔
