میلان/لندن: یورپ کے بڑے لگژری برانڈز اب امریکی مارکیٹ پر زیادہ جارحانہ انداز میں توجہ دے رہے ہیں، کیونکہ چین، یورپ اور مشرقِ وسطیٰ میں مہنگی اشیا کی طلب کمزور پڑنے کے بعد امریکا کے انتہائی امیر صارفین اس صنعت کے لیے نسبتاً محفوظ سہارا بن گئے ہیں۔
اس نئی مہم میں LVMH، Gucci، Moncler، Zegna، Hermès اور Ralph Lauren جیسے بڑے نام شامل ہیں۔ یہ کمپنیاں امریکا میں نئے اسٹورز، خصوصی فیشن ایونٹس، نجی کلائنٹ تقریبات اور ثقافتی شراکت داریوں کے ذریعے ایسے خریداروں تک پہنچنا چاہتی ہیں جن کی دولت ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت اور مالیاتی منڈیوں کے عروج سے تیزی سے بڑھی ہے۔
لگژری صنعت کے لیے امریکا اب صرف ایک مضبوط مارکیٹ نہیں رہا، بلکہ وہ جگہ بن چکا ہے جہاں برانڈز مستقبل کی نمو تلاش کر رہے ہیں۔ رائٹرز کے مطابق 2025 میں دنیا بھر میں کھلنے والے لگژری اسٹورز میں شمالی امریکا کا حصہ 27 فیصد رہا، اور پہلی بار اس نے یورپ اور چین کو پیچھے چھوڑ دیا۔ یہ اشارہ صاف ہے: برانڈز وہاں جا رہے ہیں جہاں دولت ابھی خرچ بھی ہو رہی ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ توجہ صرف نیویارک، لاس اینجلس اور میامی تک محدود نہیں رہی۔ لگژری گروپس اب امریکا کے نسبتاً چھوٹے مگر خوشحال شہروں اور علاقوں کو بھی دیکھ رہے ہیں، جہاں ٹیکنالوجی سے بنی دولت، فنانس سیکٹر کی آمدن اور بلند تنخواہوں نے نئے امیر صارفین پیدا کیے ہیں۔ سادہ الفاظ میں، برانڈز پیسے کا پیچھا کر رہے ہیں — اور اب وہ پیسہ صرف چند روایتی شہروں میں نہیں بیٹھا۔
یہ رجحان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب عالمی لگژری صنعت ایک مشکل دور سے گزر رہی ہے۔ چین میں پراپرٹی سیکٹر کی سست روی نے صارفین کے اعتماد کو متاثر کیا ہے، جبکہ یورپ اور مشرقِ وسطیٰ میں بھی خرچ کا رجحان یکساں نہیں۔ نتیجتاً مارکیٹ دو حصوں میں بٹتی دکھائی دیتی ہے: امریکا اور ایشیا کے کچھ خطے اب بھی مواقع دے رہے ہیں، لیکن کئی بڑی منڈیاں پہلے جیسی رفتار حاصل نہیں کر سکیں۔
اسی وجہ سے برانڈز اپنے انداز بھی بدل رہے ہیں۔ صرف مہنگی شاہراہ پر ایک شاندار بوتیک کھول دینا کافی نہیں رہا۔ اب فیشن شوز، نجی دعوتیں، کھیلوں کی شراکت داریاں، آرٹ ایونٹس اور خصوصی تجربات بھی اسی حکمتِ عملی کا حصہ ہیں۔ مقصد صرف مصنوعات بیچنا نہیں، بلکہ ایسے صارف کے قریب رہنا ہے جو لاکھوں ڈالر خرچ کر سکتا ہے، مگر بدلے میں عام خریداری سے زیادہ کچھ چاہتا ہے۔
Gucci کی جانب سے 2027 سے Renault کی Alpine Formula One ٹیم کا ٹائٹل پارٹنر بننے کا اعلان بھی اسی سوچ کی مثال ہے۔ لگژری برانڈز اب ان جگہوں پر اپنی موجودگی بڑھا رہے ہیں جہاں امیر صارفین پہلے ہی موجود ہوتے ہیں، چاہے وہ موٹر اسپورٹس ہوں، آرٹ فیئرز، نجی کلبز یا عالمی سفری تقریبات۔
تاہم امریکی مارکیٹ بھی مکمل طور پر آسان نہیں۔ یورپی اشیا پر امریکی محصولات نے قیمتوں اور منافع کے مارجن پر دباؤ بڑھایا ہے۔ دوسری طرف امیر خریدار بھی پہلے سے زیادہ محتاط ہو گئے ہیں۔ وہ صرف برانڈ نام کے لیے خرچ نہیں کرتے؛ انہیں یہ بھی دیکھنا ہوتا ہے کہ پروڈکٹ واقعی خاص ہے یا نہیں۔
لگژری صنعت کے لیے ایک اور مسئلہ یہ ہے کہ ہر خریدار ایک جیسا نہیں رہا۔ انتہائی امیر طبقہ اب بھی خرچ کر رہا ہے، مگر وہ صارفین جو کبھی ایک مہنگا بیگ، گھڑی یا جیکٹ خریدنے کے لیے بچت کرتے تھے، اب زیادہ محتاط ہیں۔ اسی لیے برانڈز کی موجودہ حکمتِ عملی وسیع عوامی فروخت کے بجائے مخصوص، بہت امیر اور زیادہ وفادار صارفین پر مرکوز ہوتی جا رہی ہے۔
امریکا اس وقت یورپی لگژری کمپنیوں کے لیے بڑا موقع ضرور ہے، لیکن یہ پوری صنعت کا حل نہیں۔ مکمل بحالی کے لیے چین کی واپسی اب بھی اہم رہے گی، کیونکہ گزشتہ برسوں میں لگژری برانڈز کی تیز رفتار ترقی کا بڑا حصہ چینی خریداروں سے آیا تھا۔
فی الحال، مگر، سمت واضح ہے۔ یورپی لگژری برانڈز وہاں جا رہے ہیں جہاں اعتماد، نقدی اور نئی دولت ابھی بہہ رہی ہے۔ اور 2026 میں یہ جگہ بڑی حد تک امریکا کے ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت سے مالا مال امیر طبقے کے گرد گھوم رہی ہے۔
