ایران میں قید برطانوی جوڑے کی اپیل مسترد، خاندان کا دعویٰ
قانونی عمل پر سوالات، مقدمہ اعلیٰ عدالت کو بھیج دیا گیا
ایران میں قید ایک برطانوی جوڑے کی 10 سالہ سزا کے خلاف اپیل مسترد کر دی گئی ہے، جس کے بعد خاندان نے قانونی عمل اور مقدمے کی شفافیت پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
کریگ اور لنڈسے فورمین کو ایرانی حکام کی جانب سے جاسوسی کے الزامات کے تحت سزا سنائی گئی تھی، تاہم دونوں ان الزامات کی تردید کرتے ہیں۔ خاندان کے مطابق انہیں اپنی اپیل کی سماعت میں شرکت کی اجازت نہیں دی گئی۔
اہلِ خانہ کا کہنا ہے کہ اپیل کا عمل جوڑے کی مکمل آگاہی کے بغیر انجام دیا گیا۔ ان کے مطابق بعض قانونی دستاویزات فارسی زبان میں پیش کی گئیں جنہیں وہ سمجھنے سے قاصر تھے، جس کے باعث انہیں مقدمے کی تفصیلات جاننے میں مشکلات پیش آئیں۔
رپورٹس کے مطابق اب یہ مقدمہ ایران کی سپریم کورٹ کو بھیج دیا گیا ہے، تاہم آئندہ قانونی کارروائی کے طریقہ کار اور مدت کے بارے میں ابھی واضح معلومات دستیاب نہیں ہیں۔ خاندان کا کہنا ہے کہ جوڑے کو مؤثر قانونی معاونت بھی میسر نہیں۔
برطانوی حکومت اس سزا پر پہلے ہی تنقید کر چکی ہے اور اس نے جوڑے کی رہائی کے لیے سفارتی کوششیں جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ وہ صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں۔
انسانی حقوق کے کارکنوں اور خاندان کے حامیوں نے مقدمے میں شفافیت اور منصفانہ قانونی عمل کا مطالبہ کیا ہے۔ اس کیس نے بین الاقوامی سطح پر توجہ حاصل کر لی ہے جبکہ سفارتی رابطے بھی جاری ہیں۔
