اسلام آباد: پاکستان کی مشروبات کی صنعت نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ آئندہ مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں ایریٹڈ ڈرنکس پر عائد فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی 20 فیصد سے کم کر کے 15 فیصد کی جائے، تاکہ فروخت میں بہتری، پیداواری سرگرمیوں میں اضافہ اور ٹیکس وصولیوں میں ممکنہ اضافہ یقینی بنایا جا سکے۔
صنعتی نمائندوں کا مؤقف ہے کہ موجودہ ٹیکس ڈھانچے نے مشروبات کو مہنگا کر دیا ہے، جس کا براہِ راست اثر صارفین کی خریداری اور کمپنیوں کی فروخت پر پڑا ہے۔ ان کے مطابق 20 فیصد فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کے ساتھ 18 فیصد جنرل سیلز ٹیکس شامل ہونے سے مجموعی ٹیکس بوجھ 38 فیصد سے زیادہ ہو جاتا ہے، جو رسمی اور ٹیکس ادا کرنے والی صنعت کے لیے دباؤ کا باعث بن رہا ہے۔
مشروبات کی صنعت کا کہنا ہے کہ اگر حکومت فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کو 15 فیصد تک کم کرتی ہے تو اس سے نہ صرف مصنوعات کی قیمتوں پر دباؤ کم ہوگا بلکہ فروخت کے حجم میں بھی اضافہ ہو سکتا ہے۔ صنعت کے مطابق زیادہ فروخت کی صورت میں حکومت کو کم شرح کے باوجود مجموعی طور پر زیادہ ٹیکس حاصل ہو سکتا ہے۔
یہ مطالبہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب وفاقی حکومت آئندہ بجٹ کی تیاری کر رہی ہے اور مختلف کاروباری شعبے پہلے ہی حکومت سے ٹیکسوں میں نرمی، پالیسی استحکام اور لاگت کم کرنے کے اقدامات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ حکومت کو ایک طرف ریونیو اہداف پورے کرنے کا چیلنج درپیش ہے، دوسری طرف کاروباری طبقہ یہ مؤقف اختیار کر رہا ہے کہ ٹیکسوں کی بلند شرح رسمی معیشت کو مزید دباؤ میں ڈال رہی ہے۔
صنعتی حلقوں کے مطابق زیادہ ٹیکسوں کے باعث فروخت میں کمی آئی ہے، پلانٹس کی پیداواری صلاحیت مکمل طور پر استعمال نہیں ہو رہی، اور سرمایہ کاری کے بعض منصوبے بھی متاثر ہوئے ہیں۔ اس شعبے سے وابستہ افراد کا کہنا ہے کہ مشروبات کی صنعت صرف بوتلنگ پلانٹس تک محدود نہیں بلکہ اس سے پیکیجنگ، ٹرانسپورٹ، ریٹیلرز، خام مال فراہم کرنے والے ادارے اور زرعی شعبہ بھی جڑا ہوا ہے۔
پیکڈ جوس کے شعبے نے بھی گزشتہ عرصے میں اسی نوعیت کے تحفظات ظاہر کیے تھے۔ اس شعبے کا کہنا تھا کہ بھاری ڈیوٹیز کی وجہ سے صارفین نسبتاً سستی اور غیر دستاویزی مصنوعات کی طرف منتقل ہو رہے ہیں، جس سے ٹیکس دینے والی کمپنیوں کو نقصان پہنچ رہا ہے اور حکومت کی ریونیو وصولی بھی متاثر ہو سکتی ہے۔
تاہم حکومت کے لیے فیصلہ آسان نہیں ہوگا۔ وفاقی بجٹ ایک ایسے معاشی ماحول میں تیار کیا جا رہا ہے جہاں اخراجات، سبسڈیز، قرضوں کی ادائیگی اور ریونیو اہداف پہلے ہی دباؤ میں ہیں۔ ایسے میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے لیے بنیادی سوال یہ ہوگا کہ کیا ٹیکس شرح میں پانچ فیصد پوائنٹس کی کمی واقعی فروخت میں اتنا اضافہ کر سکتی ہے کہ حکومتی آمدن متاثر ہونے کے بجائے بڑھے۔
کاروباری حلقوں کا مؤقف ہے کہ حکومت کو بار بار انہی دستاویزی شعبوں پر بوجھ ڈالنے کے بجائے ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنا چاہیے۔ ان کے مطابق جو کمپنیاں پہلے ہی ٹیکس ادا کر رہی ہیں، ان پر مزید بوجھ ڈالنے سے formal sector کمزور ہوتا ہے اور غیر دستاویزی کاروبار کو فائدہ ملتا ہے۔
مشروبات کی صنعت کے مطالبے پر حتمی فیصلہ وفاقی بجٹ کے اعلان کے ساتھ سامنے آنے کا امکان ہے۔ اگر حکومت ٹیکس میں کمی پر آمادہ ہوتی ہے تو یہ دیکھنا بھی اہم ہوگا کہ آیا کمپنیاں اس کمی کا فائدہ صارفین تک منتقل کرتی ہیں یا نہیں۔
