کراچی: اے آر وائی نیوز کی رپورٹ کے مطابق اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے ملک بھر کے تمام پٹرول پمپس کے لیے 31 جنوری 2027 تک ڈیجیٹل ادائیگیوں کے لیے ‘راست کیو آر کوڈ’ کا نظام نافذ کرنا لازمی قرار دے دیا ہے۔ مرکزی بینک نے کیش کے استعمال کو کم کرنے اور ڈیجیٹل فنانس کو فروغ دینے کے لیے کارڈ چارجز میں بھی خصوصی رعایت کا اعلان کیا ہے۔
یہ ہدایت ملک کے ہر حصے میں موجود چھوٹے اور بڑے تمام پٹرول پمپس پر یکساں طور پر لاگو ہوگی۔ اس کے ساتھ ہی مرکزی بینک نے پیٹرولیم مصنوعات کی فروخت پر کارڈ کے ذریعے ادائیگیوں کے فیس اسٹرکچر میں بھی ترمیم کی ہے۔ پیٹرولیم مصنوعات پر کارڈ کی ادائیگیوں کے لیے مرچنٹ ڈسکاؤنٹ ریٹ زیادہ سے زیادہ ایک روپے فی لیٹر مقرر کیا گیا ہے، جبکہ انٹرچینج فیس زیادہ سے زیادہ 20 پیسے فی لیٹر رکھی گئی ہے۔
یہ خصوصی رعایت شدہ نرخ 31 جنوری 2027 تک نافذ العمل رہیں گے اور تمام پاکستانی بینک کارڈز پر لاگو ہوں گے۔ مرکزی بینک نے تمام کمرشل بینکوں، مائیکرو فنانس بینکوں اور ڈیجیٹل والٹ کمپنیوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ پٹرول پمپ مالکان کے ساتھ مل کر مقررہ مدت میں راست کیو آر کوڈ کی سہولت کو مکمل طور پر فعال بنائیں۔
پاکستان میں اس وقت 15 ہزار سے زائد فعال پٹرول پمپس موجود ہیں۔ ماضی میں پوائنٹ آف سیل مشین کی سہولت زیادہ تر بڑے شہروں تک محدود تھی، تاہم اس فیصلے سے اب دور دراز علاقوں کے پمپس پر بھی ڈیجیٹل ادائیگی کی سہولت دستیاب ہوگی۔ پاکستان پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین ملک خدا بخش نے اسٹیٹ بینک کے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ اس سے قبل ڈیلرز کو کارڈز کی ادائیگی پر تقریباً 0.8 فیصد یعنی 2.40 روپے فی لیٹر تک چارجز ادا کرنا پڑتے تھے، جس کی وجہ سے وہ کارڈ کے ذریعے ادگائیاں لینے سے گریز کرتے تھے۔
