اسلام آباد: تاجروں کے اتحاد نے ہفتے کے روز وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ آئندہ بجٹ میں ٹرن اوور ٹیکس کم کر کے 0.5 فیصد کیا جائے، کیونکہ ان کے مطابق کاروباری طبقہ پہلے ہی مہنگی بجلی، بڑھتے اخراجات، کم ہوتی قوتِ خرید اور ٹیکس حکام کے دباؤ کا سامنا کر رہا ہے۔
اسلام آباد کے نیشنل پریس کلب میں بات کرتے ہوئے آل پاکستان انجمنِ تاجران اور ٹریڈرز ایکشن کمیٹی کے صدر اجمل بلوچ نے کہا کہ حکومت کو پیچیدہ اور سخت ٹیکس نظام کے بجائے ایک آسان، کم شرح والا اور قابلِ عمل نظام متعارف کرانا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ کم ٹرن اوور ٹیکس کاروباری سرگرمیوں کو سہارا دے سکتا ہے اور طویل مدت میں ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنے میں بھی مددگار ہو سکتا ہے۔
اجمل بلوچ کے مطابق تاجر ٹیکس دینے سے انکار نہیں کر رہے، مگر وہ ایسا نظام چاہتے ہیں جو سمجھنے میں آسان، مستقل پالیسی پر مبنی اور ایف بی آر کی مبینہ ہراسانی سے پاک ہو۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکومت ایک عملی “ایزی ٹیکس اسکیم” متعارف کرائے تو دکانداروں اور چھوٹے کاروباروں کے لیے ٹیکس ادائیگی آسان ہو جائے گی۔
یہ مطالبہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب وفاقی حکومت آئندہ بجٹ کی تیاری کر رہی ہے اور ریونیو بڑھانے کے دباؤ کا سامنا ہے۔ کاروباری تنظیمیں حکومت پر زور دے رہی ہیں کہ چھوٹے تاجروں اور ریٹیلرز پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، کیونکہ بجلی، گیس، ایندھن اور دیگر اخراجات میں اضافے نے پہلے ہی کاروباری منافع کم کر دیا ہے۔
اجمل بلوچ نے وزیراعظم شہباز شریف سے کسٹمز نظام میں اصلاحات کا بھی مطالبہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ کئی مرتبہ قانونی سامان مہینوں تک روک لیا جاتا ہے، جس سے تاجروں کو نقصان ہوتا ہے اور قومی خزانے کو بھی فائدہ نہیں پہنچتا۔ انہوں نے کسٹمز کے معاملات، ضبط شدہ گاڑیوں کے استعمال اور پوائنٹ آف سیل سسٹم میں مبینہ بدعنوانی کی تحقیقات کا مطالبہ بھی کیا۔
تاجروں کا تازہ مطالبہ ان تجاویز سے بھی ملتا جلتا ہے جو حالیہ دنوں میں دیگر کاروباری نمائندوں کی جانب سے دی گئی ہیں۔ بعض تاجر تنظیموں نے تجویز دی ہے کہ ڈکلیئرڈ ٹرن اوور پر صرف 0.25 فیصد سے 0.50 فیصد تک ٹیکس لیا جائے، جبکہ بجلی، ٹیلی فون اور دیگر یوٹیلیٹی بلوں کے ذریعے کٹنے والے ودہولڈنگ ٹیکسز کو ایڈجسٹ ایبل بنایا جائے۔ کچھ نمائندوں نے یہ بھی کہا ہے کہ اگر نظام آسان اور غیر مداخلتی ہو تو کم از کم سالانہ 25 ہزار روپے ٹیکس قابلِ قبول ہو سکتا ہے۔
تاجروں کا مؤقف ہے کہ پیچیدہ کاغذی کارروائی، بار بار نوٹسز اور مختلف ودہولڈنگ شرائط کاروباری طبقے کو دستاویزی معیشت میں لانے کے بجائے مزید دور کر دیتی ہیں۔ ان کے بقول شرح کم کی جائے، ریٹرن آسان بنایا جائے اور ٹیکس حکام کی مداخلت محدود ہو تو زیادہ لوگ خود نظام میں شامل ہو سکتے ہیں۔
حکومت کے لیے معاملہ آسان نہیں۔ ایک طرف ریونیو بڑھانے کی ضرورت ہے، دوسری طرف مارکیٹوں میں پہلے ہی بے چینی پائی جاتی ہے۔ ماضی میں بھی نئے ٹیکس اقدامات اور مہنگے یوٹیلیٹی بلز کے خلاف تاجروں کے احتجاج سامنے آ چکے ہیں، اس لیے بجٹ میں کوئی بھی سخت قدم سیاسی اور معاشی دباؤ بڑھا سکتا ہے۔
آئندہ وفاقی بجٹ سے واضح ہو گا کہ حکومت تاجروں کے ساتھ نرم اور مذاکراتی راستہ اختیار کرتی ہے یا ایف بی آر کے ذریعے سخت نفاذ کو ترجیح دیتی ہے۔ فی الحال تاجروں کا پیغام واضح ہے: ٹیکس کی شرح کم کی جائے، نظام آسان بنایا جائے اور کاروبار کو سانس لینے کا موقع دیا جائے۔
