اسلام آباد/کراچی: وفاقی وزیر بحری امور محمد جنید انور چوہدری نے کورنگی فشریز ہاربر بورڈ کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے ہاربر کی جدیدکاری، برآمدی صلاحیت میں اضافے اور پاکستان کی بلیو اکانومی کو مضبوط بنانے کے حکومتی عزم کو اجاگر کیا۔
سرکاری مؤقف کے مطابق کورنگی فشریز ہاربر کو محض ایک بندرگاہ نہیں بلکہ ماہی گیری، سی فوڈ پروسیسنگ اور برآمدات کے ایک اہم مرکز کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ وزارتِ بحری امور اس منصوبے کو ایسے پلیٹ فارم کے طور پر پیش کر رہی ہے جو نہ صرف فشریز سیکٹر کو منظم کرے بلکہ پاکستان کی سمندری معیشت کو بھی نئی رفتار دے۔
حکومتی بیانات میں گزشتہ مہینوں کے دوران بار بار اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ کورنگی ہاربر کو بین الاقوامی معیار کے مطابق اپ گریڈ کیا جائے۔ اس مقصد کے لیے انفراسٹرکچر بہتر بنانے، آپریشنل نظام کو مؤثر بنانے اور فش ہینڈلنگ و پروسیسنگ کے عمل کو عالمی تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے پر توجہ دی جا رہی ہے۔
وزارت نے پہلے بھی کہا تھا کہ کورنگی فشریز ہاربر کی بحالی اور توسیع سے اگلے پانچ برسوں میں 100 ملین ڈالر سے زائد کی براہِ راست اور بالواسطہ معاشی سرگرمی پیدا ہو سکتی ہے، جبکہ 3,000 سے زیادہ روزگار کے مواقع بھی پیدا ہونے کی توقع ہے۔ حکام کا یہ بھی کہنا ہے کہ منصوبے کی تکمیل کے بعد سی فوڈ پروسیسنگ صلاحیت میں 50 فیصد تک اضافہ ممکن ہو سکتا ہے۔
اسی پالیسی تسلسل میں حکومت نے کورنگی فشریز ہاربر اتھارٹی میں 100 ایکڑ پر مشتمل 80 ملین ڈالر کے سی فوڈ پروسیسنگ اینڈ ایکسپورٹ زون کی تجویز بھی سامنے رکھی تھی۔ اس منصوبے کا مقصد ویلیو ایڈڈ سی فوڈ برآمدات کو فروغ دینا، نجی سرمایہ کاری کو متوجہ کرنا اور پاکستان کو عالمی سی فوڈ سپلائی چین میں زیادہ مؤثر مقام دلانا بتایا گیا۔
سرکاری حلقوں کے مطابق کورنگی ہاربر کی اہمیت صرف برآمدات تک محدود نہیں۔ یہ منصوبہ کولڈ چین، لاجسٹکس، ویلیو ایڈیشن اور ماہی گیری کے شعبے میں بہتر گورننس سے بھی جڑا ہوا ہے۔ حکومت سمجھتی ہے کہ اگر یہ ہاربر واقعی بین الاقوامی معیار کے مطابق فعال ہو گیا تو اس سے مقامی ماہی گیروں، پروسیسنگ یونٹس اور ایکسپورٹرز سب کو فائدہ پہنچے گا۔
البتہ اس مخصوص بورڈ اجلاس کے مکمل ایجنڈے، شرکا کی تفصیلات اور تمام فیصلوں کی جامع سرکاری روداد عوامی سطح پر واضح طور پر دستیاب نہیں تھی۔ پھر بھی دستیاب سرکاری اشاروں سے یہ بات نمایاں ہے کہ وزیر بحری امور کی قیادت میں کورنگی فشریز ہاربر کو ایک بڑے اصلاحاتی اور معاشی منصوبے کے طور پر آگے بڑھایا جا رہا ہے۔
مجموعی طور پر دیکھا جائے تو یہ اجلاس محض ایک انتظامی کارروائی نہیں بلکہ حکومت کے اس بڑے وژن کا حصہ دکھائی دیتا ہے جس کے تحت کورنگی فشریز ہاربر کو پاکستان کی بلیو اکانومی، سی فوڈ برآمدات اور ساحلی ترقی کے ایک مرکزی ستون میں تبدیل کیا جا رہا ہے۔
