اسلام آباد — قومی اسمبلی نے اتوار کے روز آئندہ مالی سال 2026-27 کے لیے 42 کھرب 82 ارب روپے (4.282 ٹریلین) مالیت کی 12 اہم ترین مطالباتِ زر (ڈیمانڈز فار گرانٹس) کی منظوری دے دی ہے۔ یہ منظوری اپوزیشن ارکان کی جانب سے پیش کردہ تمام 100 ترمیمی تحریکوں (کٹ موشنز) کو کثرتِ رائے سے مسترد کرنے کے بعد دی گئی۔
یہ مطالباتِ زر وفاقی وزیر برائے خزانہ و ریونیو سینیٹر محمد اورنگزیب نے جون 2027 کو ختم ہونے والے اگلے مالی سال کے اخراجات پورے کرنے کے لیے ایوان میں پیش کیے۔ اس بجٹ کا ایک بہت بڑا حصہ پنشن اور سبسڈیز کے لیے مختص کیا گیا ہے، جس میں سرکاری ملازمین کی پنشن اور الاؤنسز کے لیے 11 کھرب 62 ارب روپے جبکہ گرانٹس، سبسڈیز اور متفرق اخراجات کے لیے 25 کھرب 4 ارب روپے کی منظوری دی گئی ہے۔
منظور کیے گئے مطالباتِ زر کی تفصیلات درج ذیل ہیں:
-
ترقیاتی منصوبے اور قرضے: ترقیاتی اخراجات کے لیے 231 ارب 8 کروڑ روپے، وفاقی حکومت کی جانب سے اندرونی ترقیاتی قرضوں کے لیے 169 ارب 21 کروڑ روپے، اور بیرونی ترقیاتی قرضوں کے لیے 2 ارب 30 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔
-
ٹیکس اور ریونیو: فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے لیے 85 ارب 60 کروڑ روپے اور ریونیو ڈویژن کے لیے 10 کروڑ 60 لاکھ روپے منظور کیے گئے ہیں۔
-
خزانہ اور متفرق فنڈز: وفاقی متفرق سرمایہ کاری اور قرضوں کے لیے 94 ارب 71 کروڑ روپے، کنٹرولر جنرل آف اکاؤنٹس کے لیے 14 ارب 91 کروڑ روپے، فنانس ڈویژن کے لیے 5 ارب 66 کروڑ روپے، فنانس ڈویژن کے دیگر اخراجات کے لیے 9 ارب 87 کروڑ روپے اور وفاقی سرمایہ کاری پر کیپیٹل آؤٹ لے کے لیے 2 ارب 35 کروڑ روپے کی منظوری دی گئی۔
اپوزیشن ارکان کے اعتراضات کا جواب دیتے ہوئے وفاق وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے دعویٰ کیا کہ 2022 کے بعد سے پاکستان کے معاشی اعشاریوں میں واضح بہتری آئی ہے۔ ملکی ترقی کی شرح (جی ڈی پی گروتھ) تقریباً 3.7 فیصد تک پہنچ چکی ہے، پرائمری سرپلس تاریخی سطح پر ہے، اور گزشتہ سال سمیت رواں مالی سال کے پہلے 11 مہینوں کے دوران کرنٹ اکاؤنٹ مسلسل سرپلس (منافع) میں رہا ہے۔
وزیرِ خزانہ نے ایک اور اہم پیش رفت کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ ملک کا مجموعی قرضہ جی ڈی پی کے 70 فیصد سے کم ہو کر 68 فیصد پر آ گیا ہے۔ ایف بی آر میں جاری اصلاحات پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ادارے میں ٹیکنالوجی، انسانی وسائل اور طریقہ کار کو جدید بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے ایوان کو یقین دلایا کہ حکومت نئے ٹیکس لگائے بغیر صرف ٹیکس چوری روکنے اور قوانین پر سختی سے عمل درآمد کروا کے ریونیو کے اہداف حاصل کر لے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ دو سالوں کے دوران عدالتوں میں زیرِ التوا ٹیکس کیسز کے فیصلوں کے ذریعے سینکڑوں ارب روپے قومی خزانے میں واپس لائے گئے ہیں۔ آخر میں انہوں نے معاشی استحکام کے لیے سب کو مل کر مثبت کردار ادا کرنے کی دعوت دی اور فنانس کمیٹی میں ایم این اے مبین عارف کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے انہیں دوبارہ کمیٹیوں کا حصہ بننے کی پیشکش کی۔
