کراچی — اوپن مارکیٹ میں پاکستانی روپے کے مقابلے ایرانی ریال کی قیمت میں کمی ریکارڈ کی گئی ہے، تاہم اس گراوٹ کے باوجود عام سرمایہ کاروں اور کرنسی ڈیلرز کی جانب سے اس کی خریداری کا سلسلہ جاری ہے۔ اسٹیٹ بینک اور انٹر بینک کے سرکاری نرخوں کے مطابق ایک ایرانی ریال کی قیمت تقریباً 0.0002 پاکستانی روپے پر برقرار ہے، لیکن اوپن مارکیٹ میں ایک کروڑ ایرانی ریال کی قیمت فروخت کم ہو کر 6,000 سے 7,500 روپے تک آ گئی ہے، جو رواں ماہ کے آغاز میں 8,000 سے 10,000 روپے تک پہنچ گئی تھی۔ مارکیٹ میں یہ اتار چڑھاؤ بین الاقوامی پابندیوں اور تہران اور واشنگٹن کے درمیان سفارتی تعلقات میں تبدیلیوں کے باعث دیکھا جا رہا ہے۔
ایکسچینج کمپنیوں کی ایسوسی ایشن کے چیئرمین ملک بوستان نے صورتحال کی وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ موجودہ مارکیٹ کی صورتحال سن 2016 کے رجحان جیسی ہے، جب جزوی پابندیاں ہٹنے پر ایک کروڑ ریال کی قیمت یکدم بڑھ کر 60,000 روپے تک چلی گئی تھی۔ حالیہ دنوں میں بھی ایک معاہدے کی امید پر یہ ریٹ 13,000 روپے تک پہنچا تھا، جو مذاکرات ناکام ہونے پر دوبارہ 2,000 روپے پر گر گیا، اور اب ایک نئی مفاہمتی یادداشت کے بعد مارکیٹ میں اس کی قیمت 4,000 سے 7,500 روپے کے درمیان گھوم رہی ہے۔ ملک بوستان نے چھوٹے سرمایہ کاروں کو خبردار کیا ہے کہ ایرانی ریال میں سرمایہ کاری انتہائی پرخطر اور غیر یقینی ہے؛ اگر سفارتی کوششیں کامیاب ہوئیں تو یہ ریٹ واپس اوپر جا سکتا ہے، لیکن مذاکرات کی ناکامی کی صورت میں رقم ڈوبنے کا خدشہ ہے۔ انہوں نے مشورہ دیا ہے کہ خریدار طویل مدتی سرمایہ کاری سے گریز کریں اور زیادہ منافع کے لالچ میں آئے بغیر ایک محدود رقم (زیادہ سے زیادہ ایک لاکھ روپے) ہی مارکیٹ میں لگائیں تاکہ کسی بھی ہنگامی نقصان سے بچا جا سکے۔
