اسلام آباد: اسلام آباد ہائی کورٹ نے ون کانسٹی ٹیوشن ایونیو کے رہائشیوں اور سب لیز ہولڈرز کی اپیلوں پر کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی، سی ڈی اے، کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر لیا ہے۔ معاملہ اب صرف ایک بڑے تعمیراتی منصوبے کی لیز منسوخی تک محدود نہیں رہا، بلکہ اصل سوال یہ بن گیا ہے کہ جن لوگوں نے اپارٹمنٹس خریدے یا سب لیز حاصل کی، ان کے حقوق کا کیا ہوگا۔
عدالتِ عالیہ کے ڈویژن بینچ نے، جس میں جسٹس محمد اعظم خان اور جسٹس انعام امین منہاس شامل ہیں، اپیل کنندگان کے وکیل کے دلائل سننے کے بعد سی ڈی اے سے جواب مانگا۔ درخواست گزاروں نے سنگل بینچ کے 30 اپریل 2026 کے فیصلے کو جزوی طور پر چیلنج کیا ہے، خاص طور پر اس آبزرویشن کو جس میں کہا گیا تھا کہ تھرڈ پارٹی خریداروں اور سب لیز ہولڈرز کے حقوق اصل لیز ہولڈر، یعنی بی این پی پرائیویٹ لمیٹڈ، کے ساتھ ہی “sink or sail” کریں گے۔
رہائشیوں کا مؤقف ہے کہ وہ اس تنازع کے اصل فریق نہیں تھے، انہوں نے اپارٹمنٹس قانونی طریقے سے حاصل کیے، قبضہ بھی رکھا، اور سی ڈی اے خود ایک عرصے تک ان کی موجودگی اور انتظامی حیثیت کو تسلیم کرتا رہا۔ اپیلوں میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ سی ڈی اے کو رہائشیوں کے پُرامن قبضے میں مداخلت، بے دخلی یا کسی جبری کارروائی سے روکا جائے۔
یہ تنازع 13.5 ایکڑ پر پھیلے اس مہنگے منصوبے سے متعلق ہے جو اسلام آباد کے کنونشن سینٹر کے قریب واقع ہے۔ سی ڈی اے نے یہ زمین 2005 میں ایک فائیو اسٹار ہوٹل کے منصوبے کے لیے لیز پر دی تھی، مگر بعد میں یہی منصوبہ رہائشی اور کمرشل ٹاورز کی شکل اختیار کر گیا۔ سی ڈی اے نے مبینہ اربوں روپے کے واجبات کی عدم ادائیگی پر لیز منسوخ کی، جسے 30 اپریل 2026 کو اسلام آباد ہائی کورٹ کے سنگل بینچ نے برقرار رکھا۔
سنگل بینچ نے بی این پی پرائیویٹ لمیٹڈ کی درخواست مسترد کرتے ہوئے قرار دیا تھا کہ سی ڈی اے کی جانب سے لیز منسوخی قانون کے مطابق تھی۔ تاہم رہائشیوں کے لیے سب سے حساس نکتہ فیصلے کا وہ حصہ ہے جس میں کہا گیا کہ اپارٹمنٹ خریداروں یا سب لیز ہولڈرز کے حقوق اصل لیز سے الگ طور پر برقرار نہیں رہ سکتے۔ یہی جملہ اب نئی اپیلوں کا مرکزی نکتہ بن چکا ہے۔
اپیل کنندگان نے اپنے دلائل میں سپریم کورٹ کے 2019 کے احکامات کا بھی حوالہ دیا ہے، جن میں سی ڈی اے کو تھرڈ پارٹی کلیمز کے حل کے لیے ایک شفاف، منصفانہ اور قابلِ عمل طریقہ کار وضع کرنے کی ہدایت کی گئی تھی۔ ان کا کہنا ہے کہ جب تک ایسا طریقہ کار اختیار نہیں کیا جاتا، رہائشیوں کو یکطرفہ طور پر بے دخل کرنا یا ان کے حقوق ختم کرنا آئینی تحفظات کے خلاف ہوگا۔
بینک آف پنجاب بھی اس مقدمے میں ایک اہم فریق کے طور پر سامنے آیا ہے۔ بینک نے سنگل بینچ کے فیصلے کے خلاف الگ انٹرا کورٹ اپیل دائر کی، اگرچہ رجسٹرار آفس نے اس اپیل کے قابلِ سماعت ہونے پر اعتراضات اٹھائے ہیں۔ رپورٹس کے مطابق بینک کا کہنا ہے کہ اس کا براہِ راست مفاد متاثر ہوا ہے کیونکہ اس نے منصوبے میں تقریباً 25,420 مربع فٹ جگہ، جس میں لوئر گراؤنڈ، اپر گراؤنڈ اور فرسٹ فلور شامل ہیں، برانچ کے قیام کے لیے حاصل کی تھی۔
معاملے میں ایک اور اہم پیش رفت یکم مئی 2026 کی ہے، جب وزیر اعظم شہباز شریف نے اس کیس کا جائزہ لینے کے لیے ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دی۔ اپیل کنندگان کے مطابق اسی نوٹیفکیشن کے تحت متاثرہ رہائشیوں کے خلاف جبری کارروائی کو حتمی فیصلے تک روکا گیا تھا۔ عدالت میں یہی نکتہ بھی اٹھایا گیا کہ جب حکومتی سطح پر معاملہ زیرِ غور ہے تو سی ڈی اے کو فوری کارروائی سے روکا جانا چاہیے۔
نئی اپیلوں میں سابق ایئر چیف مجاہد انور خان، سابق آئی سی سی چیئرمین احسان مانی، نَسیم زہرا اور دیگر رہائشیوں کے نام بھی سامنے آئے ہیں۔ ان اپیل کنندگان کا کہنا ہے کہ ان کے اپارٹمنٹس کی تعمیر منظور شدہ لے آؤٹ پلان کے تحت ہوئی، وہ طویل عرصے سے وہاں رہائش پذیر ہیں، اور لیز منسوخی کے بعد بھی سی ڈی اے کے زیرِ نگرانی قائم کمیٹی کے تحت ٹاورز کے روزمرہ امور چلتے رہے۔
قانونی ماہرین کے نزدیک اس کیس کا فیصلہ مستقبل کے ایسے بڑے شہری منصوبوں کے لیے بھی اہم ہو سکتا ہے جہاں اصل لیز ہولڈر، خریدار، بینک، سرمایہ کار اور سرکاری ادارے ایک ہی معاملے میں الجھ جاتے ہیں۔ بظاہر عدالت کو اب دو چیزوں میں توازن پیدا کرنا ہوگا: ایک طرف سی ڈی اے کا واجبات اور لیز شرائط پر مؤقف، دوسری طرف ان لوگوں کے حقوق جو خود کو bona fide purchasers یعنی نیک نیتی سے خریداری کرنے والے فریق قرار دے رہے ہیں۔
فی الحال عدالت نے سی ڈی اے سے جواب مانگ لیا ہے۔ اگلی سماعت میں یہ واضح ہونے کا امکان ہے کہ عدالت رہائشیوں کو عبوری تحفظ دیتی ہے یا معاملہ سی ڈی اے کے جواب اور حکومتی کمیٹی کی سفارشات تک محدود رہتا ہے۔ ون کانسٹی ٹیوشن ایونیو کے رہائشیوں کے لیے، بات اب صرف ایک پتے یا لگژری اپارٹمنٹ کی نہیں رہی؛ یہ ان کے قبضے، سرمایہ کاری اور قانونی تحفظ کا سوال بن چکا ہے۔
