نئی دہلی: خلیجی خطے میں جاری کشیدگی اور آبنائے ہرمز میں تیل کی ترسیل متاثر ہونے کے باعث بھارت نے توانائی کے متبادل ذرائع کی تلاش تیز کر دی ہے۔ اسی تناظر میں بھارت اور وینزویلا نے توانائی کے شعبے میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔ بھارتی وزارت خارجہ کے سیکریٹری رودریندر ٹنڈن نے دونوں ممالک کے درمیان توانائی کے شعبے میں "مکمل تکمیلیت” (Perfect Complementarity) قرار دیتے ہوئے کہا کہ وینزویلا بھارت کو توانائی کا ترجیحی شراکت دار سمجھتا ہے۔
وینزویلا کی قائم مقام صدر Delcy Rodríguez ان دنوں بھارت کے دورے پر ہیں، جہاں انہوں نے بھارتی وزیر اعظم Narendra Modi سے ملاقات کی۔ ملاقات میں تیل و گیس کے بالائی (upstream) اور زیریں (downstream) شعبوں میں تعاون، سرمایہ کاری اور تجارتی روابط کے فروغ پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
بھارت، جو دنیا کے بڑے تیل درآمد کنندگان میں شامل ہے، خلیجی بحران کے باعث اپنی توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے وینزویلا سے خام تیل کی درآمدات میں اضافہ کر رہا ہے۔ مئی 2026 میں بھارت وینزویلا کے تیل کا دوسرا بڑا خریدار بن گیا، جبکہ وینزویلا بھارت کے لیے اہم ترین تیل سپلائرز میں شامل ہو چکا ہے۔
ماہرین کے مطابق خلیجی راستوں میں رکاوٹوں کے سبب بھارت اپنی توانائی کی درآمدات کو متنوع بنانے کی حکمت عملی پر عمل پیرا ہے، جس میں وینزویلا اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔
دورے کے دوران وینزویلا کا وفد بھارتی ریفائنریوں کا بھی دورہ کرے گا اور توانائی کے شعبے کی بڑی کمپنیوں سے ملاقاتیں کرے گا، جس سے دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی اور توانائی تعاون کے نئے مواقع پیدا ہونے کی توقع ہے۔
