سیول — جنوبی کوریا میں داخلہ سطح کی ملازمتوں کی کمی کے باعث بڑی تعداد میں نوجوان گریجویٹس اپنے کیریئر کے آغاز کے لیے جاپان کا رُخ کر رہے ہیں۔ یونسی یونیورسٹی کی سابق طالبہ اور جاپانی کاروباری شخصیت موئے کاسوگائی کی جانب سے 2019 میں شروع کی جانے والی سروس ‘کوریک’ (KOREC) جیسے ادارے اب کورین جاب کے خواہشمندوں کو جاپانی آجروں سے منسلک کر رہے ہیں۔ جہاں جنوبی کوریا کے بڑے ادارے بالخصوص سام سنگ تجربہ کار افراد کو ترجیح دیتے ہیں، وہیں بڑھتی ہوئی عمر کی آبادی کے حامل جاپان میں نئے فارغ التحصیل نوجوانوں کے لیے گریجویٹ اسکیمز کے تحت روزگار کے وسیع مواقع موجود ہیں۔
سرکاری اور نجی سطح پر بڑھتی ہوئی دلچسپی کے پیش نظر رواں برس سیول میں جاپان سے متعلقہ کم از کم تین جاب فیرز منعقد ہو چکے ہیں، جن میں کینن امیجنگ سسٹمز اور آزبل جیسے ادارے بھی شامل ہیں۔ کوریا لیبر انسٹی ٹیوٹ کے مطابق جاپان میں کام کرنے والے اسی ہزار سے زائد کورین شہری ریٹیل، آئی ٹی اور گیم ڈویلپمنٹ جیسے شعبوں میں پیشہ ورانہ خدمات انجام دے رہے ہیں۔ اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ برس حکومتی پروگراموں کے تحت جاپان جانے والے کورین نوجوانوں کی تعداد میں اڑتالیس فیصد اضافہ دیکھا گیا، جو جاپان کو بیرون ملک ملازمت کے لیے سب سے مقبول منزل بناتا ہے۔ ماہرین کے مطابق کورین امیدواروں کی زبان اور ثقافتی صلاحیتیں جاپانی کمپنیوں کے لیے انتہائی پُرکشش ہیں، تاہم جاپانی آجروں کو ملازمین کی طویل وابستگی برقرار رکھنے جیسی مشکلات کا سامنا بھی ہے۔
