کراچی: گلشنِ اقبال میں بجلی کے ایک سب اسٹیشن سے اہم آلات چوری ہونے کے بعد کے-الیکٹرک کی فیلڈ ٹیموں نے متاثرہ انفرااسٹرکچر کی بحالی اور بجلی کی فراہمی کو معمول پر لانے کے لیے کام شروع کر دیا۔ اس واقعے نے ایک بار پھر کراچی میں یوٹیلیٹی انفرااسٹرکچر کی سکیورٹی پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔ مقامی میڈیا رپورٹ کے مطابق یہ واردات گلشنِ اقبال کے بلاک 13-E میں پیش آئی، جہاں مسلح ملزمان مبینہ طور پر کے-الیکٹرک کے عملے کے روپ میں آئے اور سب اسٹیشن سے کاپر وائرنگ، ٹرانسفارمر بشنگز، بس بارز، بریکرز اور دیگر برقی سامان لے گئے۔
رپورٹ کے مطابق ملزمان ایک منی ٹرک اور ایک گاڑی میں آئے، انہوں نے یونیفارم، ہیلمٹ اور جیکٹس پہن رکھی تھیں تاکہ وہ بظاہر یوٹیلیٹی اسٹاف لگیں۔ واردات کے دوران عمارت کے چوکیدار اور اس کے بیٹے کو باندھنے اور تشدد کا نشانہ بنانے کی بھی اطلاعات سامنے آئیں، جبکہ ملزمان اہم برقی آلات ساتھ لے کر فرار ہو گئے۔
اس مخصوص واقعے پر کے-الیکٹرک کا الگ باضابطہ بیان مجھے نہیں ملا، اس لیے یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ یہی عنوان کمپنی کے آفیشل پریس ریلیز کا حصہ تھا۔ تاہم کے-الیکٹرک کی سرکاری معلومات یہ ظاہر کرتی ہیں کہ کمپنی کی فیلڈ ٹیمیں شہر بھر میں لوکلائزڈ فالٹس، خراب تنصیبات اور بارش یا دیگر ہنگامی حالات کے بعد بحالی کے کاموں کے لیے سرگرم رہتی ہیں۔ کمپنی نے اپنی حالیہ اپ ڈیٹس میں کہا ہے کہ اس کی ٹیمیں بحالی اور عوامی تحفظ کے لیے متحرک رہتی ہیں۔
یہ واقعہ ایک بڑے پس منظر سے بھی جڑا ہوا ہے۔ کے-الیکٹرک بارہا کہہ چکی ہے کہ بجلی چوری، غیر قانونی کنڈے اور تنصیبات کے ساتھ چھیڑ چھاڑ نہ صرف نظام کو نقصان پہنچاتے ہیں بلکہ عوامی سلامتی کے لیے بھی خطرہ بنتے ہیں۔ کمپنی کے مطابق ایسے غیر قانونی کنکشنز نیٹ ورک پر دباؤ بڑھاتے ہیں اور حادثات و تعطل کے امکانات میں اضافہ کرتے ہیں۔
کمپنی یہ بھی واضح کرتی رہی ہے کہ کئی علاقوں میں لوڈشیڈنگ کا تعلق فیڈر لاسز سے ہوتا ہے، اور یہ لاسز بجلی چوری اور بلوں کی عدم ادائیگی سے متاثر ہوتے ہیں۔ کے-الیکٹرک کے شائع شدہ شیڈول کے مطابق اسی بنیاد پر مختلف علاقوں کی پروفائلنگ کی جاتی ہے۔
حالیہ مہینوں میں کے-الیکٹرک نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ مل کر مختلف علاقوں میں غیر قانونی کنکشنز کے خلاف کارروائیاں بھی کی ہیں۔ ستمبر 2024 کی ایک سرکاری اپ ڈیٹ میں کمپنی نے بتایا کہ سرجانی ٹاؤن اور کورنگی انڈسٹریل ایریا میں آپریشن کے دوران 800 غیر قانونی کنڈے ہٹائے گئے۔ یہ اعدادوشمار اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ بجلی چوری اور انفرااسٹرکچر کے تحفظ کا مسئلہ اب بھی کمپنی کے لیے بڑا چیلنج ہے۔
گلشنِ اقبال کا یہ واقعہ صرف ایک چوری کی واردات نہیں، بلکہ شہری یوٹیلیٹی نظام کی کمزوری کو بھی نمایاں کرتا ہے۔ ایسے معاملات میں چوری شدہ سامان کی جگہ نئے آلات لگانا، نظام کو محفوظ بنانا اور متاثرہ علاقے میں سپلائی بحال کرنا پہلا ضروری قدم ہوتا ہے۔ یہ نکتہ کے-الیکٹرک کے عمومی بحالی کے طریقۂ کار اور فیلڈ آپریشنز سے اخذ کیا گیا ہے۔
