جمعرات کو سونے کی قیمتیں کم ہو گئیں کیونکہ خام تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے مہنگائی کے خدشات کو دوبارہ جگا دیا، جس کی وجہ سے سرمایہ کاروں نے سود کی شرحوں کے حوالے سے اپنی توقعات پر نظرثانی کی۔ اس دوران، امریکہ اور ایران کے درمیان جاری جغرافیائی سیاسی حالات نے مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال میں اضافہ کر دیا۔
مارکیٹ کے رجحانات:
- اسپاٹ گولڈ تقریباً 0.7% کمی کے ساتھ $4,705 فی اونس پر پہنچ گیا۔
- امریکی گولڈ فیوچرز جون کی ڈیلیوری کے لیے تقریباً 0.6–0.7% گر گئے۔
- برینٹ کروڈ آئل $100 فی بیرل کے اوپر مستحکم رہا، جس سے مہنگائی کے خدشات برقرار رہے۔
سونے کی قیمتوں میں کمی کی وجوہات:
تیل کی بلند قیمتیں مہنگائی کے خدشات کو فروغ دے رہی ہیں، جو کہ مرکزی بینکوں کے لیے زیادہ دیر تک سود کی شرحیں برقرار رکھنے کی ضرورت کی نشاندہی کرتی ہیں۔ دیگر منافع بخش اثاثے سونے کی نسبت زیادہ کشش رکھتے ہیں کیونکہ سونا کوئی سود نہیں دیتا۔ اضافی طور پر، توانائی کی قیمتوں میں اضافہ پیداوار اور نقل و حمل کے اخراجات بڑھا دیتا ہے، جو مجموعی قیمتوں پر دباؤ ڈالتا ہے۔
جغرافیائی سیاسی پہلو:
امریکہ اور ایران کے تعلقات سرمایہ کاروں کے جذبات کو متاثر کر رہے ہیں۔ ایران کی جانب سے اسٹریٹ آف ہرمز میں حالیہ کارروائیوں نے توانائی کی سپلائی میں خلل کے خدشات بڑھا دیے ہیں۔ واشنگٹن اور تہران کے درمیان مذاکرات رک گئے ہیں اور دونوں جانب سے بامعنی معاہدے کے لیے پیچیدہ شرائط کی نشاندہی کی گئی ہے۔
مارکیٹ کی توقعات:
ٹریڈرز نے فیڈرل ریزرو کی پالیسی کے حوالے سے اپنی توقعات کو ایڈجسٹ کیا ہے۔ ایک سروے کے مطابق، مارکیٹ اب دسمبر تک سود میں کمی کے صرف 23% امکانات کی پیش گوئی کرتی ہے، جو پہلے کی توقعات کے مقابلے میں کم ہے۔ یہ تخمینہ توانائی کی بڑھتی قیمتوں اور عالمی غیر یقینی صورتحال کی روشنی میں کیا گیا ہے۔
مستقبل کا منظر:
ماہرین کے مطابق، جب تک تیل کی قیمتیں بلند رہیں اور امریکہ-ایران کشیدگی جاری رہے، سونا دباؤ کا شکار رہ سکتا ہے۔ سرمایہ کار ممکنہ طور پر میکرو اکنامک اشارے اور جغرافیائی سیاسی حالات پر قریب سے نظر رکھیں گے تاکہ قیمتی دھاتوں میں بڑی سرمایہ کاری کے فیصلے کر سکیں۔
