پاکستانی روپے نے مہینے کے آخری کاروباری دن امریکی ڈالر کے سامنے اپنی پوزیشن مضبوط رکھی۔ انٹر بینک مارکیٹ میں ڈالر کی قیمت میں کوئی نمایاں اتار چڑھاؤ نہیں دیکھا گیا، جو مارکیٹ میں نقد رقم کے بہتر بہاؤ اور استحکام کی علامت ہے۔
کاروباری حلقوں کا کہنا ہے کہ ڈالر ایک مخصوص حد کے اندر ٹریڈ کر رہا ہے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ مارکیٹ نے مرکزی بینک کی حالیہ پالیسیوں کے اثرات کو پوری طرح جذب کر لیا ہے۔ مہینے کے آخری روز ہونے والی معمول کی ادائیگیوں کے باوجود ڈالر پر کوئی اضافی دباؤ نہیں آیا، جو درآمد کنندگان کے لیے ایک مثبت اشارہ ہے۔
اس استحکام کے پیچھے غیر ملکی زرِ مبادلہ کے ذخائر میں بہتری ایک اہم عنصر ہے۔ ترسیلاتِ زر کی مسلسل آمد اور کرنسی مارکیٹ میں سٹے بازی پر قابو پانے سے اسٹیٹ بینک کو روپے کی قدر ایک حد میں رکھنے میں مدد ملی ہے۔
تاہم، معاشی ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ یہ استحکام ابھی ابتدائی مرحلے میں ہے۔ اصل چیلنج آنے والے مہینوں میں تجارتی خسارے کو کنٹرول کرنا اور برآمدات میں اضافہ کرنا ہے۔ اگر برآمدی ہدف پورا نہ ہوا تو روپے پر دباؤ دوبارہ بڑھ سکتا ہے۔
اوپن مارکیٹ میں بھی صورتحال انٹر بینک سے مختلف نہیں رہی۔ ایکسچینج کمپنیوں کے مطابق، اب لوگ پچھلے مہینوں کی طرح گھبراہٹ میں ڈالر جمع کرنے کے لیے نہیں بھاگ رہے، جس کی وجہ سے اوپن اور انٹر بینک ریٹ کا فرق کم ترین سطح پر آ گیا ہے۔
ماہرینِ معیشت اب اگلے مہینے کے آغاز میں جاری ہونے والے معاشی ڈیٹا کے منتظر ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ روپے کی اصل مضبوطی کا اندازہ اس وقت ہوگا جب حکومت مزید بیرونی قرضوں کے بغیر ان ذخائر کو برقرار رکھنے میں کامیاب ہوگی۔ فی الحال، روپے نے ایک مستحکم بنیاد تلاش کر لی ہے، لیکن اصل امتحان نئے مہینے کے اعداد و شمار ہوں گے۔
