سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کے روز اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ تصاویر کا ایک سلسلہ شیئر کیا، جن میں خلائی مخلوق کو فوجی وردیوں میں دیکھا جا سکتا ہے۔ ایک تصویر میں وائٹ ہاؤس کے اوپر ایک خلائی جہاز کو منڈلاتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔
ٹرمپ نے ان تصاویر کے ساتھ کوئی واضح سیاق و سباق بیان نہیں کیا، سوائے ایک تصویر کے جس میں سبز رنگ کی ایک خلائی مخلوق کو فوجی لباس میں دکھایا گیا ہے، جس پر انہوں نے کیپشن لکھا: ”ٹارگٹ تباہ کر دیا گیا۔“
یہ تصاویر، جن میں اے آئی کا غیر حقیقی پن اور بگڑے ہوئے خد و خال واضح طور پر دیکھے جا سکتے ہیں، ٹرمپ کی حالیہ سوشل میڈیا سرگرمیوں کا حصہ ہیں۔ وہ گزشتہ چند ہفتوں سے اے آئی سے تیار کردہ مواد کا کثرت سے استعمال کر رہے ہیں، جس میں اکثر انہیں خود کو ہیرو یا کسی خیالی منظرنامے میں پیش کرتے ہوئے دیکھا گیا ہے۔
اس بار کا موضوع سائنس فکشن کی طرف مائل ہے۔ ٹرمپ کے حامیوں نے ان تصاویر کو تیزی سے وائرل کیا، تاہم سیاسی مبصرین اس بات پر حیران ہیں کہ اس سب کا ان کی انتخابی مہم سے کیا تعلق ہے۔
یہ تصاویر سیاسی مہمات میں مصنوعی میڈیا کے بڑھتے ہوئے رجحان کی عکاسی کرتی ہیں۔ اگرچہ یہ تصاویر مکمل طور پر خیالی ہیں، لیکن یہ اس سوال کو جنم دیتی ہیں کہ سیاسی پیغامات اور انٹرنیٹ میمزکے درمیان فرق کو ختم کرنے کے لیے اے آئی کا استعمال کس حد تک مؤثر ہے۔
ڈیجیٹل میڈیا کے ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کا اے آئی مواد پر انحصار دو مقاصد پورا کرتا ہے۔ ایک تو یہ کہ وہ روایتی میڈیا کے گیٹ کیپرز کو بائی پاس کر کے براہ راست اپنے ووٹرز تک پہنچتے ہیں، اور دوسرا، یہ تصاویر سوشل میڈیا پر بہت زیادہ ’انگیجمنٹ‘ پیدا کرتی ہیں جو ان کے حامیوں کے حلقوں میں تیزی سے پھیلتی ہیں۔
ٹرمپ کی انتخابی مہم کی جانب سے ان تصاویر کے ماخذ یا ”ٹارگٹ تباہ“ والے کیپشن کے اصل مقصد کے بارے میں کوئی بیان جاری نہیں کیا گیا۔
یہ پوسٹس فی الحال ان کے اکاؤنٹ پر موجود ہیں، جو 2024 کے انتخابی عمل کے غیر معمولی اور غیر متوقع انداز کی عکاس ہیں۔ یہ محض سوشل میڈیا پر توجہ حاصل کرنے کا ایک حربہ ہے یا کسی گہری سیاسی حکمت عملی کا حصہ، یہ واضح نہیں، لیکن اس اقدام نے ایک بار پھر میڈیا کی توجہ اپنی جانب مبذول کرا لی ہے۔