سیئول: جنوبی کوریا کی سپرنیچرل ہارر فلم ”سالموکجی: وِسپرنگ واٹر“ نے باکس آفس پر نیا ریکارڈ قائم کر دیا ہے۔ فلم 31 لاکھ 70 ہزار ناظرین کے ساتھ کوریا کی تاریخ کی سب سے زیادہ دیکھی جانے والی مقامی ہارر فلم بن گئی ہے۔
کورین فلم کونسل کے اعداد و شمار کے مطابق فلم نے جمعہ سے اتوار تک مزید 90 ہزار 972 ٹکٹ فروخت کیے، جس کے بعد اس کی مجموعی admissions 3.17 ملین تک پہنچ گئیں۔ اس کامیابی کے ساتھ ”سالموکجی“ نے 2003 کی معروف ہارر فلم ”اے ٹیل آف ٹو سسٹرز“ کا 21 سال پرانا ریکارڈ توڑ دیا، جسے 31 لاکھ 40 ہزار ناظرین نے دیکھا تھا۔
یہ کامیابی کورین ہارر سنیما کے لیے معمولی بات نہیں۔ ”اے ٹیل آف ٹو سسٹرز“ کو طویل عرصے تک جدید کورین ہارر کی نمایاں ترین فلموں میں شمار کیا جاتا رہا ہے۔ ایسے میں ”سالموکجی“ کا اس ریکارڈ کو پیچھے چھوڑنا یہ ظاہر کرتا ہے کہ مقامی لوک کہانیوں، پراسرار مقامات اور نفسیاتی خوف پر مبنی فلموں میں ناظرین کی دلچسپی پھر بڑھ رہی ہے۔
لی سانگ من کی ہدایت کاری میں بننے والی اس فلم میں کم ہئے یون مرکزی کردار ادا کر رہی ہیں۔ فلم 8 اپریل 2026 کو جنوبی کوریا میں ریلیز ہوئی تھی۔ اس کی کہانی ایک فلمی ٹیم کے گرد گھومتی ہے جو یسن کاؤنٹی میں واقع سالموکجی ریزروائر جاتی ہے، جہاں سڑک کی ویڈیو دوبارہ شوٹ کرنے کے دوران پراسرار واقعات سامنے آتے ہیں۔
فلم کی خاص بات یہ ہے کہ یہ صرف اچانک ڈرا دینے والے مناظر پر انحصار نہیں کرتی، بلکہ ایک مقامی مقام سے جڑی افواہوں، پرانی کہانیوں اور خاموش خوف کو آہستہ آہستہ کہانی میں شامل کرتی ہے۔ یہی انداز شاید اس کی کامیابی کی ایک بڑی وجہ بنا۔
”سالموکجی“ کی باکس آفس کارکردگی پہلے ہی مضبوط سمجھی جا رہی تھی۔ اپریل کے آخر میں فلم نے ایک ہفتہ وار باکس آفس چارٹ پر پہلی پوزیشن حاصل کی تھی، جب اس نے جمعہ سے اتوار کے دوران 3 لاکھ 43 ہزار 463 ناظرین کو سینما گھروں تک کھینچا۔ اس وقت تک فلم کی مجموعی ویورشپ تقریباً 19 لاکھ 80 ہزار تک پہنچ چکی تھی۔
فلم کی کامیابی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب کورین فلم انڈسٹری میں لوک کہانیوں اور مقامی خوف پر مبنی ہارر فلموں کا رجحان دوبارہ نمایاں ہو رہا ہے۔ ”سالموکجی“ نے ثابت کیا ہے کہ اگر کہانی مقامی ثقافت سے جڑی ہو، ماحول مضبوط ہو اور کردار ناظرین کو اپنی طرف کھینچیں، تو ہارر فلم صرف محدود شائقین تک محدود نہیں رہتی۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ فلم آنے والے دنوں میں کتنے مزید ناظرین حاصل کرتی ہے۔ لیکن ایک بات واضح ہے: ”سالموکجی: وِسپرنگ واٹر“ نے کورین ہارر سنیما کی تاریخ میں اپنی جگہ پکی کر لی ہے۔
